صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 294 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 294

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۹۴ ۸۱ - كتاب الرقاق ہوتی ہے اور قیامت وسطی جس سے مراد پہلی صدی کا خاتمہ ہے یعنی جب مسلمانوں میں تنزیل کے آثار ظاہر ہوں گے اور صغری یعنی موت انسانی۔“ ( تفسیر کبیر سورۃ التکویر، جلد ۸ صفحه ۱۹۰) تغير كبير سورة التكوير ، كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَعْرَابِ جُفَاةً يَأْتُونَ: اعراب میں سے کچھ لوگ اُجڑ تھے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے۔ الجفاء: جفا اس شخص کو کہتے ہیں جس کی طبیعت میں سختی ہو لوگوں سے کم میل جول رکھنے کی وجہ سے۔ اور ایک جگہ حفاة استعمال ہوا ہے اور وہ ایسے شخص کیلئے ہے ؟ سے شخص کیلئے ہے جو پیروں میں بغیر کچھ پہنے چلتا ہے۔ اور یہ دونوں مع معنی دیہاتیوں میں غالب ہیں۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحه ۹۶) بَاب ٤٣ : نَفْخُ الصُّورِ نفخ صور قَالَ مُجَاهِدٌ الصُّورُ كَهَيْئَةِ الْبُوقِ، مجاہد نے کہا: صور یا بگل کی طرح ہوتا ہے ( اور زجرة (الصافات: ۲۰) (النازعات: ۷) سورة الصافات میں آیا ہے ) زَجْرةً یعنی للکار۔ اور صَيْحَةٌ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ النَّاقُورِ حضرت ابن عباس نے کہا: ناقور بگل ہی ہوتا ہے الصور۔ الرَّاجِفَةُ (النازعات: ۷) اور رَاجِفَةُ کے معنی ہیں پہلی پھونک اور رَادِفَةٌ النَّفْحَةُ الْأُولَى، وَالرَّادِفَةُ کے معنی ہیں دوسری پھونک۔ (النازعات: ۸) النَّفْخَةُ الثَّانِيَةُ۔ ٦٥١٧ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۶۵۱۷: عبد العزیز بن عبد اللہ نے مجھ سے بیان عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ کیا۔ اُنہوں نے کہا: ابراہیم بن سعد نے مجھے بتایا۔ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ اُنہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور عبد الرحمن اعرج سے أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ روایت کی کہ اُن دونوں نے ان کو بتایا کہ حضرت اسْتَبْ رَجُلَانِ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ابو ہریرہ کہتے تھے: دو آدمیوں نے ایک دوسرے وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ الْمُسْلِمُ کو گالیاں دیں۔ ایک شخص مسلمانوں میں سے تھا اور