صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 293
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۹۳ ۸۱ - كتاب الرقاق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو دنیا اور اس کے تعلقات کبھی محبوبات نہیں ہوئے۔آپ نے اپنی زندگی کو ایک مسافر کی حالت سے تعبیر کیا ہے جس کا کھانا پینا اور چلتے چلتے کچھ آرام کرنا اور ستانا، سفر کو جاری رکھنے کی ضرورت کے طور پر تھا۔پس آپ کی سکرات الموت دنیا سے انقطاع کی وجہ سے نہ تھی کیونکہ آپ کو تو مزید دنیا میں رہنے کا اختیار بھی دیا گیا مگر آپ کی روح رفیق اعلیٰ کے وصال کے لیے محو پرواز تھی۔شارحین نے اس پر بہت بحثیں کی ہیں اور اس کی مختلف توجیہات بیان کی ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ جس طرح دنیا کی زندگی میں آپ کو بخار اور بیماری وغیرہ کی تکلیف عام انسان کی نسبت دو گنا ہوتی تھی جیسا کہ بخاری کی روایات ۵۶۴۸،۵۶۴۷،۵۶۴۶ میں ذکر ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی تھیں: میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر بیماری ہوئی ہو۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی بیماری میں آیا اور آپ کو نہایت سخت بخار چڑھا ہوا تھا۔(آپ نے فرمایا: مجھے اتنا بخار چڑھتا ہے جتنا کہ تم میں سے دو آدمیوں کو بخار چڑھتا ہے۔ان تکالیف سے گزار کر اللہ تعالیٰ انبیاء کے صبر قتل برداشت اور راضی برضا انہی کا عالی شان نمونہ دکھاتا ہے اور جتنا بڑا ابتلاء اتنے ہی بڑے انعام کا وارث بناتا ہے اس لیے آخری سانس تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صبر کا قابل تقلید نمونہ دکھایا ہے۔باب کی دیگر روایات میں مؤمن بندوں کی موت کا ذکر ہے کہ مومن تو دنیا کی تکالیف سے نجات پا کر دانگی راحت و آرام پاتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توحقیقی راحت و آرام تھی ہی اخروی اور دائمی زندگی میں۔دیگر روایات میں بعض ایسے شر پسند عناصر کا بھی ذکر ہے جن سے انسان تو انسان حیوان اور درخت بھی اذیت پاتے ہیں۔اُن کے جانے سے اس جہان کی تمام چیزیں راحت پاتی ہیں اور وہ سب سے بڑی گرفت اور عذاب الیم میں مبتلا ہوتے ہیں اس عذاب کی سنگینی کا ذکر مختلف آیات قرآنیہ میں ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِيَامَتُهُ (مجمع البحار و تشييد المعانی) جو مر جاتا ہے اس کی قیامت اُسی وقت آجاتی ہے۔اگر ایک شخص کی موت کو قیامت کہہ سکتے ہیں۔تو قوم کی موت اور تباہی قیامت کہلانے کی زیادہ مستحق ہے۔علامہ شیخ محمد طاہر سندھی مصنف مجمع بحار الانوار لفظ قیامت کے نیچے لکھتے ہیں وَقَد وَرَدَ فِي الْكِتَبِ وَالسُّنَّةِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ الْقِيَامَةُ الْكُبْرَى وَالْبَعْتُ لِلْجَزَاءِ وَالْوُسْطَى وَهِيَ الْقِرَاضُ الْقَرِنِ وَالصُّغْرِى وَهُوَ مَوْتُ الإِنسَانِ یعنی قرآن کریم اور حدیث سے قیامت کے تین استعمال ثابت ہیں۔قیامت کبریٰ جو جزاء سزاء کے لئے بعثت ثانیہ کے مفہوم میں استعمال ا (صحیح البخاری، کتاب المرضى باب أَشَدُّ النَّاسِ بَلاءُ الأَنْبِيَاء)