صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 6
صحیح البخاری جلد ۱۵ ५ ٨٠ - كتاب الدعوات تشريح : لِكُلِّ نَبِي دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ : بر ایک نبی کی ایک خاص دعا ہوتی ہے جو قبول کی جاتی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مہر نبی کے واسطے ایک دُعا ایسی ہوتی ہے کہ وہ ضرور قبول کی جاتی ہے۔ نوح نے وہ دُعا اپنی قوم کے لئے مانگی کہ لا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَفِرِينَ دَيَّارًا (نوح:۲۷) حضرت نبی کریم سے دریافت کیا گیا۔ فرمایا: میں نے وہ دُعا دنیا میں نہیں کی۔ قیامت کے دن کروں گا شَفَاعَةً لِأُمَّتِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ! رُوحِي فداك) تمہارے مرزا صاحب سے بھی میں نے پچھوایا تھا مگر وہ ہنس پڑے اور سکوت کیا۔“ (حقائق الفرقان جلد ۲ صفحه ۱۳۵) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: 22 ہر نبی محبت کی بناء پر نبی بنتا ہے۔ بنی نوع انسان کی خرابیوں کی نفرت کی بناء پر کبھی کوئی نبی نہیں بنا۔ کبھی کسی نبی نے نبی بننے سے پہلے معاشرے کو طعن تشنیع نہیں کیا۔ اگر وہ طعن و تشنیع سے کام لیتا تو اتنا ہر دل عزیز کیوں ہوتا؟ وہ اپنے دکھ اپنے دل میں سمیٹتا رہا ہے اور خدا کی طرف متوجہ ہوتا رہا ہے اور یہ اس کا درد تھا جو محبت الہی کے اثر سے وہ مقبول دعا بن گیا جس کے نتیجے میں اس قوم کی تقدیر کے بدلنے کا فیصلہ کیا گیا اور یہی وہ محبت بھری دعا تھی جس کے ذریعہ سے خدا نے اس کو چنا اور وہ سب سے زیادہ متحق ٹھہرا کہ اس قوم کے حالات کو تبدیل کرے، اس گندے معاشرے کو صاف کرے۔“ الازهار لذوات الخمار، خطاب لجنہ اماء الله بر موقع جلسہ سالانہ برطانیہ ۲۷ جولائی ۱۹۹۶ء، جلد ۲ صفحہ ۴۶۲) لِكُلِّ نَبِي دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ پر شارحین نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ کیا ہر نبی کی صرف ایک دعا قبول ہوتی د ہے یا ہر دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: بعض نادان یہ اعتراض بار بار پیش کرتے ہیں کہ محبوبان الہی کی یہ علامت ہے کہ ہر ایک دُعا اُن کی سنی جاتی ہے اور جس میں یہ علامت نہیں پائی جاتی وہ محبوبان الہی میں سے نہیں ہے۔ مگر افسوس کہ یہ لوگ منہ سے تو ایک بات نکال لیتے ہیں مگر اعتراض کرنے کے وقت یہ نہیں سوچتے کہ ایسے جاہلانہ اعتراض خدا تعالیٰ کے تمام نبیوں اور