صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 5
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۰ - كتاب الدعوات اس کی ترقی پکڑتی ہے اور یقین بڑھتا ہے لیکن جو شخص دُعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف منہ نہیں کرتا وہ ہمیشہ اندھا رہتا اور اندھامرتا ہے۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۳۶، ۲۳۷) باب ۱: وَلِكُلِّ نَبِيِّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا:) اور ہر ایک نبی کی ایک خاص دعا ہوتی ہے جو قبول کی جاتی ہے ٦٣٠٤ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي ۶۳۰۴: اسماعیل ( بن ابی اویس) نے ہم سے بیان مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے ابوالزناد أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله سے ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِ نَبِي دَعْوَةٌ ابوہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ مُسْتَجَابَةٌ يَدْعُو بِهَا وَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِيَ وسلم نے فرمایا: ہر ایک نبی کی ایک مقبول دعا ہوتی دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فِي الْآخِرَةِ۔ہے جو وہ مانگتا ہے۔اور میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی طرفه: ٧٤٧٤ - دعا کو چھپائے رکھوں تا کہ آخرت میں میری امت کے لیے وہ شفاعت (کاموجب) بنے۔٦٣٠٥ : وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ قَالَ مُعْتَمِرٌ :۶۳۰۵ اور خلیفہ (بن خیاط) نے مجھ سے کہا کہ معتمر : سَمِعْتُ أَبِي عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى ( بن سلیمان) کہتے تھے: میں نے اپنے باپ سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ نَبِيَّ سَأَلَ سنا۔وہ حضرت انس سے، حضرت انس نبی صلی سُولًا - أَوْ قَالَ لِكُلِّ نَبِيَّ دَعْوَةٌ قَدْ اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔آپ نے دَعَا بِهَا - فَاسْتُجِيبَ فَجَعَلْتُ دَعْوَتِي فرمایا: ہر ایک نبی نے کچھ مانگا ہے یا فرمایا: ہر ایک شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔نبی کی ایک خاص دعا ہے کہ جو اُس نے مانگی ہے - اور وہ قبول کی گئی۔میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کے لئے بطور شفاعت کے رکھ چھوڑا ہے۔