صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 7 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 7

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۰ - كتاب الدعوات رسولوں پر وارد ہوتے ہیں۔مثلاً ہر ایک نبی کی یہ مراد تھی کہ تمام کفار ان کے زمانہ کے جو اُن کی مخالفت پر کھڑے تھے مسلمان ہو جائیں۔مگر یہ مراد اُن کی پوری نہ ہوئی۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: ۴) یعنی کیا تو اس غم سے اپنے تیں ہلاک کر دے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے ایمان لانے کے لئے اس قدر جانکاہی اور سوز و گداز سے دُعا کرتے تھے کہ اندیشہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس غم سے خود ہلاک نہ ہو جاویں اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے لئے اس قدر غم نہ کر اور اس قدر اپنے دل کو دردوں کا نشانہ مت بنا کیونکہ یہ لوگ ایمان لانے سے لا پروا ہیں اور ان کے اغراض اور مقاصد اور ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ اشارہ فرمایا ہے کہ اے نبی (علیہ السلام) ! جس قدر تو عقد ہمت اور کامل توجہ اور سوز و گداز اور اپنی رُوح کو مشقت میں ڈالنے سے ان لوگوں کی ہدایت کے لئے دُعا کرتا ہے تیری دعاؤں کے پڑ تا ثیر ہونے میں کچھ کمی نہیں ہے لیکن شرط قبولیت دعا یہ ہے کہ جس کے حق میں دعا کی جاتی ہے سخت متعصب اور لا پروا اور گندی فطرت کا انسان نہ ہو ورنہ دُعا قبول نہیں ہو گی اور جہاں تک مجھے خدا تعالیٰ نے دعاؤں کے بارے میں علم دیا ہے وہ یہ ہے کہ دُعا کے قبول ہونے کے لئے تین شرطیں ہیں۔اول۔دُعا کرنے والا کامل درجہ پر متقی ہو کیونکہ خدا تعالیٰ کا مقبول وہی بندہ ہوتا ہے جس کا شعار تقویٰ ہو اور جس نے تقویٰ کی باریک راہوں کو مضبوط پکڑا ہو اور جو امین اور متقی اور صادق العہد ہونے کی وجہ سے منظور نظر الہی ہو اور محبتِ ذاتیہ الہیہ سے معمور اور پُر ہو۔دوسری شرط یہ ہے کہ اس کی عقدِ ہمت اور توجہ اس قدر ہو کہ گویا ایک شخص کے زندہ کرنے کے لئے ہلاک ہو جائے اور ایک شخص کو قبر سے باہر نکالنے کے لئے آپ گور میں داخل ہو۔اس میں راز یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنے مقبول بندے اس سے زیادہ پیارے ہوتے ہیں جیسا کہ ایک خوبصورت بچہ جو ایک ہی ہو اس کی ماں کو پیارا ہوتا