صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 292
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۹۲ ۸۱ - کتاب الرقاق ٦٥١٥ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا :۶۵۱۵ ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے ، ایوب عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ نے نافع سے ، نافع نے حضرف ابن عمر رضی اللہ عنہما قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ عليه وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مر جاتا عُدْوَةً وَعَشِيًّا إِمَّا النَّارُ وَإِمَّا الْجَنَّةُ ہے تو اُس کا ٹھکانا اس کے سامنے صبح شام پیش کیا جاتا ہے یا تو آگ ہوتی ہے یا جنت اور اُسے کہا جاتا ہے یہ تیر اٹھکانا ہے اُس وقت تک کہ تجھے پھر اُٹھایا فَيُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى تُبْعَثَ إِلَيْهِ۔أطرافه: ١٣٧٩، ٣٢٤٠- جائے۔٦٥١٦ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ :۶۵۱۶ علی بن جعد نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے ، اعمش نے عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى مجاہد سے مجاہد نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ آپ بیان کرتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا۔جو مر گئے ہوں انکو برا نہ کہو کیونکہ وہ اپنے کیے طرفه: ۱۳۹۳ کو پہنچ چکے۔تشریح : سَكَرَاتُ الْمَوْتِ: موت کی بے ہو شیاں۔علامہ بدرالدین مینی لکھتے ہیں کہ سگرات المؤت، وهي جمع سكرة وهى شلة المَوْت وغمه وغشيته، والسكر يضم السين حالة تعرض بين المرء وعقله (عمدة القاری، جزء۲۳ صفحہ ۹۵) سکرات سکرۃ کی جمع ہے اور اس کے معنی ہیں موت کی شدت ، موت کا غم اور موت کی بے ہوشی، اور شکر (سین کی پیش) وہ حالت ہے جو آدمی اور اس کی عقل کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔سکرات الموت کے عنوان کے نیچے سب سے پہلی روایت (۶۵۱۰) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بیماری اور وصال سے قبل کی کیفیات کا ذکر ہے جس میں سکرات الموت کا ذکر ہے عام آدمی کی موت کے وقت تکلیف کا باعث یہ سمجھا جاتا ہے کہ چونکی انقطاع تام کا وقت ہوتا ہے اور انسان اپنے محبوبات اور مرغوبات سے یک دفعہ الگ ہوتا ہے اور ایک عجیب قسم کا زلزلہ اس پر طاری ہوتا ہے۔اس لیے اس پر تکالیف کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔مگر