صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 291
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۹۱ ۸۱ - كتاب الرقاق وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ قَالَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يا رسول اللہ ! یہ چھٹکارا پانے والا یا وہ جس سے يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا وَأَذَاهَا إِلَى چھٹکارا ہوا ہے سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: رَحْمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ مؤمن بندہ دنیا کی تکلیف اور اس کے دکھ سے يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ چھٹکارا پا کر اللہ عزوجل کی رحمت کو سدھارتا ہے وَالدَّوَابُ ۔ طرفه: ٦٥١٣ - اور جو بد کار بندہ ہے اس سے بندے اور ملک اور درخت اور جانور سب چھٹکارا پاتے ہیں۔ ٦٥١٣ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۶۵۱۳: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی (قطان) عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبد ربہ بن سعید بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبٍ (انصاری) سے، عبد ربہ نے محمد بن عمرو بن محلہ سے روایت کی کہ (معبد ) بن کعب نے مجھے بتایا۔ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ معبد نے حضرت ابو قتادہ سے، حضرت ابو قتادہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ۔ طرفه: ٦٥١٢ - نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: چھٹکارا پانے والا ہے یا اس سے چھٹکارا ہوا ہے۔ مومن آرام پالیتا ہے۔ ٦٥١٤ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۶۵۱۴ : حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ عیینہ نے ہمیں بتایا۔ عبد اللہ بن ابی بکر بن عمرو بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ بن حزم نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے حضرت مَالِكِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى انس بن مالک سے سنا۔ وہ کہتے تھے رسول اللہ صلی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں۔ دو تو لوٹ آتی ہیں اور ایک اس کے فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى مَعَهُ وَاحِدٌ ساتھ رہ جاتی ہے۔ اس کے ساتھ اس کے گھر يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ فَيَرْجِعُ والے اس کا مال اور اس کا عمل جاتا ہے۔ اس کے أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَيَبْقَى عَمَلُهُ۔ گھر والے اور اس کا مال، یہ تو واپس لوٹ جاتے ہیں اور اس کا عمل رہ جاتا ہے۔