صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 290
صحیح البخاری جلد ۱۵ وَالرَّكْوَةُ مِنَ الْأَدَمِ۔۲۹۰ ۸۱ - كتاب الرقاق کا ہاتھ جھک گیا۔ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا علبہ ایسا پیالہ ہے جو لکڑی کا ہو ، اور رَكْوَہ چھڑے کا پیالہ ہے۔أطرافه ۸۹۰، ۱۳۸۹، ۳۱۰۰ ، ۳۷۷۴ ٤٤۳۸ ،٤٤٤٦ ٤٤٤٩، ٤٤٥٠، ٤٤٥١ ٥٢١٧۔مَتَى ٦٥١١: حَدَّثَنِي صَدَقَةُ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ۲۵۱۱: صدقہ (بن فضل) نے مجھ سے بیان کیا کہ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ عبده بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَعْرَابِ جُفَاةً يَأْتُونَ ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلُونَهُ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔وہ بیان کرتی السَّاعَةُ فَكَانَ يَنْظُرُ إِلَى أَصْغَرِهِمْ تھیں: اعراب میں سے کچھ لوگ اُجڑ تھے وہ نبی فَيَقُولُ إِنْ يَعِشَ هَذَا لَا يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور آپ سے حَتَّى تَقُومَ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ قَالَ پوچھتے ، وہ گھڑی کب ہو گی ؟ تو آپ اس کی طرف دیکھتے جو اُن میں سب سے چھوٹا ہوتا اور فرماتے: اگر یہ زندہ رہا تو بھی بڑھاپا اس پر نہیں آئے گا کہ تمہاری گھڑی تم پر آجائے گی۔ہشام نے کہا: اس سے مراد اُن کی موت ہے۔هِشَامٌ يَعْنِي مَوْتَهُمْ۔٦٥١٢: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ۶۵۱۲: اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو کیا۔اُنہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔اُنہوں بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے، اُنہوں نے معبد مَالِكِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيّ بن كعب بن مالک سے ، معبد نے حضرت ابو قتادہ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ بن ربعی انصاری سے روایت کی کہ وہ بیان کرتے رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ مُسْتَرِيحْ وَمُسْتَرَاحْ ایک جنازہ گزرا۔آپ نے فرمایا۔چھٹکارا پانے والا مِنْهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ مَا الْمُسْتَرِيحُ ہے یا اس سے چھٹکارا ہوا ہے۔لوگوں نے کہا: