صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 289
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۸۹ ۸۱ - كتاب الرقاق وہ اتصال ہوتا ہے کہ گویا وہ اس کو آنکھ سے دیکھتا ہے۔اور اس کو قوت دی جاتی ہے اور اس کے تمام حواس اور تمام اندرونی قوتیں روشن کی جاتی ہیں اور پاک زندگی کی کشش بڑے زور سے شروع ہو جاتی ہے۔اسی درجہ پر آکر خدا انسان کی آنکھ ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ دیکھتا ہے اور زبان ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ بولتا ہے۔اور ہاتھ ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ حملہ کرتا ہے اور کان ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ سنتا ہے اور پیر ہو جاتا ہے جس کے ساتھ وہ چلتا ہے۔“ (اسلامی اُصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۵،۳۹۴) باب ٤٢ : سَكَرَاتُ الْمَوْتِ موت کی بے ہوشیاں ٦٥١٠ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ :۶۵۱۰: محمد بن عبید بن میمون نے مجھ سے بیان کیا بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ کہ عیسیٰ بن یونس نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمر عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي بن سعید سے ، عمر نے کہا: ابن ابی ملیکہ نے مجھے خبر ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ أَبَا عَمْرٍو ذَكْوَانَ دی کہ ابو عمرو ذکوان جو حضرت عائشہ کے غلام مَوْلَى عَائِشَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ تھے، نے انہیں بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ اللهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ عنہا فرماتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ سامنے چڑے کا یا لکڑی کا بڑا پیالہ رکھا تھا جس میں رَكْوَةٌ أَوْ عُلْبَةٌ فِيهَا مَاءً يَشُكُ عُمَرُ کچھ پانی تھا۔عمر اس کے متعلق شک کرتے ہیں۔فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْمَاءِ فَيَمْسَحُ لـ رَكْوَةً کہا یا عُلْبَةٌ) تو آپ اپنے ہاتھ پانی میں بِها وَجْهَهُ وَيَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ڈالتے اور پھر اُن کو اپنے چہرے پر پھیرتے اور إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ ثُمَّ نَصَبَ فرماتے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔موت کی يَدَهُ فَجَعَلَ يَقُولُ فِي الرَّفِيقِ بھی بے ہوشیاں ہوتی ہیں۔پھر آپ نے اپنا ہاتھ الْأَعْلَى حَتَّى قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ قَالَ اٹھایا اور یہ دعا کرنے لگے : رفیق اعلیٰ کے پاس۔أَبُو عَبْدِ اللهِ الْعُلْبَةُ مِنَ الْخَشَبِ آخرای حالت میں آپ کی وفات ہو گئی اور آپ