صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 288 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 288

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۸۸ ۸۱ - كتاب الرقاق میں مایوسی نہیں آنی چاہیئے۔اور تمہیں کبھی یہ تصور بھی نہیں کرنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اکیلا چھوڑ دے گا اور دشمن تمہیں تباہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا وہ ابتلاؤں کے ذریعہ صرف تمہارا امتحان لینا چاہتا ہے ورنہ وہ تمہارے ساتھ ہے اور اس کے فرشتے تمہاری تائید میں کام کر رہے ہیں۔پس دشمن خواہ تمہیں کس قدر ستائے اور تم پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوشش کرے تمہیں اس بات پر کامل یقین رکھنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تم سے ترقی کے وعدے کئے ہوئے ہیں وہ پورے ہو کر رہیں گے اور وہ تمہاری مدد کے لئے دوڑتا چلا آئے گا۔اگر تم ابتلاؤں میں ثابت قدمی دکھاؤ گے اور خدا تعالیٰ پر کبھی بدظنی نہیں کرو گے بلکہ اُمید رکھو گے کہ خدا تعالیٰ آسمان سے اترے گا اور تمہارے دشمنوں کی گردنیں مروڑ دے گا تو تمہارا خدا تم سے ایسا ہی سلوک کرے گا۔اور وہ تمہارے لئے ایسی غیرت دکھائے گا جس کی مثال اور کہیں نظر نہیں آئے گی۔اس زمانہ میں مسلمانوں کے تنزل کی سب سے بڑی وجہ یہی ہوئی کہ ان کا ایک زندہ خدا پر ایمان نہ رہا۔اور منجزات اور خوارق کے متعلق انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ یہ صرف پہلے زمانہ کے لوگوں کے لئے دکھائے جاتے تھے اب خد انعوذ باللہ ان نشانات کے دکھانے کی طاقت نہیں رکھتا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کا کوئی ولولہ نہ رہا اور وہ مایوسی کا شکار ہو گئے۔اسلام اس نظریہ کو غلط قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ جولوگ اپنے محبوب کی ملاقات یعنی اس کی نصرت اور تائید پر کامل یقین رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی مدد کے لئے آسمان سے اتر آتا ہے اور وہ اسی طرح ان کی تائید کرتا ہے جس طرح پہلے انبیاء کی جماعتوں کی اس نے تائید کی۔“ ( تفسير كبير ، سورة العنكبوت، زير آيت مَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاء الله جلدے صفحہ ۵۸۷) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” دوسری زندگی کے لئے الہام الہی ہونا ضروری ہے۔اسی مرتبہ پر پہنچنے کا نام لقاء الہی ہے یعنی خدا کا دیدار اور خدا کا درشن۔اس درجہ پر پہنچ کر انسان کو خدا سے