صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 287
۲۸۷ صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۱- كتاب الرقاق میں ہم نے کی اور وہ اس وقت اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے سنو جو (بوجھ) وہ اٹھائیں گے وہ بہت (ہی) بر اہو گا۔اور جو لقائے باری تعالیٰ کے متمنی ہوں گے اُن کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: مَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللهِ لَاتٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (العنکبوت : ٦) جو شخص اللہ کی ملاقات کی اُمید رکھتا ہے (اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آنے والا ہے اور وہ بہت سننے والا ( اور ) بہت جاننے والا ہے۔ہر انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت ودیعت کی ہے اور انسان کی روح اس محبت کو نہ صرف محسوس کرتی ہے بلکہ اس کے اندر یہ تڑپ ہوتی ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک سے ملے جیسے ہر بچے کے اندر اپنے والدین کی محبت ہوتی ہے اور والدین کے اندر اپنے بچے کی محبت۔یہ دو طرفہ محبت ہی ایک دوسرے کو باہم ملاتی اور وصل کی لذت سے ہمکنار کرتی ہے۔قرآن کریم نے محبت الہی کے اس تعلق کی گواہی میں روحوں کے اس اقرار کو پیش کیا ہے جن کی فطرت میں اس محبت کا بیج بویا گیا ہے فرماتا ہے: وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ اشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَن تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيِّمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غُفِلِينَ (الأعراف: ۱۷۳) اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں میں سے ان کی اولادوں کو لیا اور ان کو اپنی جانوں پر گواہ ٹھہرایا اور پوچھا) کیا میں تمہارا رب نہیں؟ انہوں نے کہا ہاں ہاں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں (ہم نے یہ اس لیے کیا) کہ (ایسا نہ ہو) تم قیامت کے دن کہہ دو کہ ہم تو اس (تعلیم) سے بالکل ناواقف تھے۔مگر چونکہ انسان کو با اختیار اور آزاد رکھا گیا ہے اور کوئی عمل اس سے جبراً نہیں کرایا جاتا۔اس لیے بعض لوگ فطرت کی اس آواز کو اپنی سیاہ کاریوں سے خاموش کر دیتے ہیں مگر جو فطرت کی اس آواز کو مرنے نہیں دیتے بلکہ اپنے حسن عمل سے اُسے صیقل کرتے ہیں اور اس فطری محبت کے شعلہ کو اس قدر روشن کرتے ہیں کہ نور علی نور بن جاتے ہیں اور وہ اس دنیا میں ہی وصل اور لقاء کی منازل طے کرنے لگتے ہیں اور کامل و حقیقی لقاء کے لیے ان کی روح جسم کی کثافت سے نکل کر اپنے روحانی وجود کی پرواز سے وصل الہی کے دائی مقام کے لیے بے قرار ہوتی ہے۔زیر باب حدیث میں ان ہر دو طبقات کا ذکر ہے وہ بھی جو وَمَنْ كَانَ في هذة أعلى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أعلى بنى اسرائیل: ۷۳) اور جو اس (دنیا) میں اندھا رہے گا وہ آخرت میں (بھی) اندھا ہو گا۔کے مصداق ہیں اور وہ بھی جو بالرفیق الاعلیٰ کے کلمات محبت و وارفتگی کی عاشقانہ صدا بلند کرتے کرتے اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملتے ہیں۔لقائے الہی کی یہ منازل مؤمن کو تائیدات الہی اور دشمنوں پر غلبے کی صورت میں اس دنیا میں بھی حاصل ہو جاتی ہیں گو ابتلاء آتے ہیں مگر یہ ابتلاء انہیں مایوس نہیں کرتے بلکہ ان کی کامیابیوں کے لیے بطور امتحان آتے ہیں جن سے سرخرو ہو کر وہ آگے بڑھتے جاتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بقائے الہی سے مراد اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت کا نزول ہے اور مومنوں کو اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ دشمنوں کی شرارتوں کو دیکھ کر تمہارے دلوں