صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 286
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۸۶ - كتاب الرقاق ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ مجھے سعید الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فِي رِجَالٍ بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے منجملہ کئی آدمیوں مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ کے جو اہل علم میں سے تھے خبر دی کہ حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ فرماتی تھیں: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ آپ تندرست يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ تھے فرمایا کرتے تھے کہ کسی نبی کی بھی وفات نَبِيُّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ نہیں ہوئی جب وئی جب تک کہ وہ جنت میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ نہ لے ۔ پھر اُس کو اختیار دیا جاتا ہے ۔ ثُمَّ يُخَيَّرُ فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ وَرَأْسُهُ عَلَى جب آپ کو بیماری کی شدت ہوئی اور آپ کا سر فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ أَفَاقَ میری ران پر تھا آپ پر کچھ دیر غشی طاری رہی پھر فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى السَّقْفِ ثُمَّ قَالَ آپ ہوش میں آئے اور چھت کی طرف ٹکٹکی لگائی اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى قُلْتُ إِذَا لَا پھر فرمایا: اے اللہ رفیق اعلیٰ کے پاس۔ میں نے يَخْتَارُنَا وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ الَّذِي کہا: اب آپ ہمیں پسند نہیں کرتے اور میں سمجھ كَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ قَالَتْ فَكَانَتْ تِلْكَ گئی کہ یہ وہی بات ہے جو آپ ہمیں بتایا کرتے آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ تھے کہتی تھیں: وہی آخری بات تھی جو نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلُهُ اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ علیہ وسلم نے کی یعنی آپ کا یہ کہنا: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى۔ الْأَعْلَى أطرافه: ٤٤٣٥ ٤٤٣٦، ٤٤٣٧ ، ٤٤٦٣، ٤٥٨٦، ٦٣٤٨۔ تشريح : مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ أَحَبُّ اللَّهُ لِقَاء : جس نے اللہ کی ملاقات کی چاہت کی اللہ نے اس کی ملاقات کی چاہت کی۔ قرآن کریم میں دونوں دونوں طبقات کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ جو لقاء الہی کے منکر اور مکذب بن جاتے ہیں اُن کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا جَاءَتُهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوا يُحَسُرَتَنَا عَلَى مَا فَرَّطْنَا فِيهَا وَهُمْ يَحْمِلُونَ أَوْزَارَهُمْ عَلَى ظُهُورِهِمْ أَلَّا سَاءَ مَا يَزِرُونَ ) (الأنعام : ۳۲) جن لوگوں نے اللہ کی ملاقات کے مسئلہ ) کو جھٹلایا وہ نقصان میں پڑ گئے ہیں یہاں تک کہ جب وہ گھڑی ان پر اچانک آجائے گی تو وہ کہیں گے اُف رے ہماری ندامت اس کو تاہی کی وجہ سے جو اس گھڑی کے بارہ