صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 283
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۸۳ ۸۱ - كتاب الرقاق تشریح یہ باب بلا عنوان ہے مگر کشمیینی کی روایت میں ہے بَاب طُلُوعِ الشَّمس من مغرِبهَا (عمدۃ القاری جزء ۲۳ صفحہ (۹۱) زیر باب روایت میں قیام ساعت کے وقت دو الگ الگ باتوں کے ظہور کا ذکر کیا گیا ہے۔ا: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تطلع الشَّمْسُ مِن مَغْرِ بہا۔وہ گھڑی قائم نہ ہوگی جب تک کہ سورج مغرب کی طرف سے نہ نکلے۔اس کے بعد یہ ذکر ہے کہ اس وقت کسی کا ایمان اسے فائدہ نہیں دے گا اس سے مراد مغربی ممالک میں اسلام کے غلبہ کا سورج ہے جب وہ طلوع ہو گا اور عملاً ساری دنیا میں اسلام کے غلبہ کا نقارہ بیج جائے گا اس وقت تک جو ایمان نہیں لائے تھے یا ایمان تو لائے تھے مگر اسلام احمدیت کے غلبہ پر یقین نہیں تھا اس لیے اپنے ایمان میں اس غیر یقینی اور تذبذب کی وجہ سے وہ صرف نام کے مؤمن تھے۔اور اب غلبہ دیکھ کر وہ اپنے ایمان و اخلاص دکھانے کی کوشش کریں گے مگر اب وقت گذر چکا ہو گا۔ابتلاء اور آزمائش کا وہ زمانہ کہ جب ایمان کی خاطر قربانی دینی پڑتی تھی انہوں نے تساہل اور بے عملی کا مظاہرہ کیا اب وقتی جوش کسی کام نہیں آئے گا۔لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبهَا : وہ گھڑی قائم نہ ہوگی جب تک کہ سورج مغرب کی طرف سے نہ نکلے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: طلوع شمس کا جو مغرب کی طرف سے ہو گا ہم اس پر بہر حال ایمان لاتے ہیں لیکن اس عاجز پر جو ایک رویا میں ظاہر کیا گیا وہ یہ ہے جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی جو قدیم سے ظلمت کفر و ضلالت میں ہیں آفتاب صداقت سے منور کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔اور میں نے دیکھا کہ میں شہر لنڈن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر کے جسم کے موافق ان کا جسم ہو گا۔سوئیں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگرچہ میں نہیں مگر میری تحریریں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کے شکار ہو جائیں گے۔در حقیقت آج تک مغربی ملکوں کی مناسبت دینی سچائیوں کے ساتھ بہت کم رہی ہے گویا خدائے تعالیٰ نے دین کی عقل تمام ایشیا کو دے دی اور دنیا کی عقل تمام یورپ اور امریکہ کو نبیوں کا سلسلہ بھی اول سے آخر تک ایشیا کے ہی حصہ میں رہا اور ولایت کے کمالات بھی انہی لوگوں کو ملے۔اب خدائے تعالیٰ ان لوگوں پر نظر رحمت ڈالنا چاہتا ہے۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۷۶، ۳۷۷)