صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 280 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 280

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۸۰ ۸۱ - كتاب الرقاق میں فرماتا ہے : فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ ادنی (النجم : ۱۰) اور وہ دونوں دو کمانوں کے متحد وتر کی شکل میں تبدیل ہو گئے ، اور ہوتے ہوتے اس سے بھی زیادہ قرب کی صورت اختیار کر لی۔ حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیان فرماتے ہیں: عاجزی اور انکساری ایک ایسا خلق ہے جب کسی انسان میں پیدا ہو جائے تو اس کے ماحول میں اور اس سے تعلق رکھنے والوں میں باوجود مذہبی اختلاف کے جس شخص میں یہ خلق ہو اس پر انگلی اٹھانے کا موقعہ نہیں ملتا بلکہ اس خُلق کی وجہ سے لوگ اس کے گرویدہ ہو جاتے ہیں، اس سے تعلق رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہمیں تاریخ انسانی میں سب سے زیادہ عاجزی اگر کسی میں نظر آتی ہے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے چنانچہ دیکھ لیں باوجود خاتم الانبیاء ہونے کے آپ اپنے ماننے والوں کو یہی فرماتے ہیں کہ مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو اور اس یہودی کو بھی پتہ تھا کہ باوجود اس کے کہ میں یہودی ہوں اور جھگڑا میر امسلمان سے ہے اور پھر معاملہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تعلق رکھتا ہے اپنے اس جھگڑے کا معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی لاتا ہے، آپ کی خدمت میں ہی پیش کرتا ہے۔ کیونکہ مذہبی اختلاف کے باوجود اس کو یہ یقین تھا اور وہ اس یقین پر قائم تھا کیونکہ مذہبی اختلاف کے کہ یہ عاجز انسان صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اپنی بڑائی ظاہر کرنے کی کوشش نہیں کریں گے اور اس یہودی کو یہ بھی یقین تھا کہ میرا دل رکھنے کے لئے اپنے مرید کو یہی کہیں گے کہ مجھے موسیٰ پر فضیلت نہ دو۔ یہ یقین اس لئے قائم تھا کہ آپ کی زندگی جو زندگی اس یہودی کے سامنے تھی اس سے یہی ثابت ہو ا تھا اور آپ کا یہ حسن خلق اس کو پتہ تھا۔ (خطبات مسرور ، خطبہ جمعہ فرموده ۲ ر جنوری ۲۰۰۴ء، جلد ۲ صفحه ۴) باب ۳۹ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا میری بعثت اور وہ گھڑی یوں ہیں جیسے یہ دونوں انگلیاں وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ اور اس گھڑی کا واقعہ ایسے ہی ہے جیسے آنکھ کی اقْرَبُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اءِ قَدِیرہ جھپک یا اس سے بھی زیادہ قریب اللہ ہر بات پر (النحل: ۷۸) کامل قدرت رکھتا ہے۔