صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 279 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 279

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۷۹ ۸۱ - کتاب الرقاق أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ میرا بندہ نفلوں کے ذریعہ مجھ سے قریب ہوتا جاتا وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِي ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا يَبْطِسُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا ہوں۔جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ وَلَئِنِ اسْتَعَاذَبِي پھر اس کا کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے اور لَأُعِيدَنَّهُ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ اس کا ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ۔اس کا پاؤں ہو جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اس کو ضرور دوں اور اگر وہ میری پناہ لے تو میں اس کو ضرور پناہ دیتا ہوں اور میں کسی کام میں بھی جس کو میں کرنے لگتا ہوں کبھی تردد نہیں کرتا جتنا تردد کہ میں مؤمن کی جان کے متعلق کرتا ہوں وہ موت کو بر اسمجھتا ہے اور میں اس کو تکلیف دینا نا پسند کرتا ہوں۔تشریح : التَّواضُع: انکساری سے پیش آنا۔عاجزی کا منبع یہ ہے کہ انسان اپنے اندر کی ہر خوبی، ہر حسن اور ہر قسم کی استعدادوں کو خدا کی دین اور فضل سمجھے نہ کہ اپنا کوئی استحقاق۔اور انہیں خدا کی طرف سے دی گئی امانت سمجھے اور ان امانتوں کا حق ادا کرنے کی فکر اسے بار بار اپنی کمزوری اور بالا ہستی کی مدد اور نصرت کی طلب میں بڑھائے اور یہ یقین بڑھتا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر میں ان امانتوں کا حق ادا نہیں کر سکتا اس لیے اس فکر اور سوچ کے ساتھ جتنادہ خدا کے حضور جھکے گا اتنا ہی وہ سر بلند ہوتا جائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا: إذا تواضع العبد رفعه الله إلى السماء السابعة " جب بندہ عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اُسے ساتویں آسمان تک اُٹھاتا ہے۔پس جتنا کوئی متواضع ہو گا اتنا ہی اس کا رفع ہو گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ سب سے بڑے متواضع تھے اس لیے آپ کو سب سے بڑھ کر رفعت ملی۔کوئی نبی دوسرے آسمان تک گیا کوئی تیسرے کوئی چوتھے ، پانچویں، چھٹے یا ساتویں تک مگر آپ کی پرواز سب سے اوپر تھی آپ سدرۃ المنتہی تک پہنچے جو بشریت کا انتہائی مقام ہے۔اس سے آگے الوہیت کا دائرہ شروع ہو جاتا ہے۔قرآنِ کریم آپ کی اس رفعت کے ذکر ا (کنز العمال، کتاب الأخلاق من قسم الأقوال، الباب الأول في الأخلاق والأفعال المحمودة،الفصل الثاني في تعديد الأخلاق المحمودة، التواضع، جزء۳ صفحه ۱۱۰)