صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 277 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 277

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۷۷ ۸۱ - كتاب الرقاق مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ خدمت میں ہوں۔پھر آپ تھوڑی دیر چلے پھر وَسَعْدَيْكَ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الله فرمایا: معاذ بن جبل ! میں نے کہا یا رسول اللہ حاضر اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ قُلْتُ اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ہوں اور آپ کی خدمت میں ہوں۔آپ نے قَالَ حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَنْ يَعْبُدُوهُ فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا حق اپنے بندوں پر وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ثُمَّ سَارَ سَاعَةً کیا ہے؟ میں نے کہا، اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر ثُمَّ قَالَ يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ قُلْتُ لَبَّيْكَ جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا: اللہ کا حق بندوں پر یہ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ قَالَ هَلْ تَدْرِي ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں۔پھر آپ تھوڑی مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوهُ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ حَقٌّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ۔دیر چلے اور فرمایا: معاذ بن جبل! میں نے کہا، حاضر ہوں یا رسول اللہ اور آپ کی خدمت میں ہوں۔آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے جب وہ اس کے حق کو بجالائیں ؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا: بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ اُن کو سزا نہ دے۔أطرافه ٢٨٥٦، ٥٩٦٧، ٦٢٦٧، ٧٣٧٣۔بَاب ۳۸ : التَّوَاضُعُ انکساری سے پیش آنا ٦٥٠١ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۶۵۰۱: مالك بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ زبير بن معاویہ) نے ہمیں بتایا۔حمید نے ہم اللهُ عَنْهُ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الله سے بیان کیا۔حمید نے حضرت انس (بن مالک) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةٌ۔ح۔قَالَ وَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ کی ایک اونٹنی تھی۔(ابو عبد اللہ نے) کہا: اور محمد رَضِيَ