صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 276 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 276

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱ - کتاب الرقاق تعریف کی۔اس بات پر وہ رنجیدہ ہوا کہ جب یہاں ہی تعریف ہو گئی تو شائد ثواب آخرت سے محرومیت ہو۔تھوڑی دیر کے بعد وہ آیا اور کہا کہ وہ روپیہ اس کی والدہ کا تھا جو دینا نہیں چاہتی، چنانچہ وہ روپیہ واپس دیا گیا۔جس پر ہر ایک نے لعنت کی اور کہا کہ جھوٹا ہے۔اصل میں روپیہ دینا نہیں چاہتا۔جب شام کے وقت وہ بزرگ گھر گیا۔تو وہ شخص ہزار روپیہ اس کے پاس لایا اور کہا کہ آپ نے سر عام میری تعریف کر کے مجھے محروم ثواب آخرت کیا، اس لیے میں نے یہ بہانہ کیا۔اب یہ روپیہ آپ کا ہے، لیکن آپ کسی کے آگے نام نہ لیں۔بزرگ رو پڑا اور کہا کہ اب تو قیامت تک مورد لعن طعن ہوا، کیونکہ کل کا واقعہ سب کو معلوم ہے اور یہ کسی کو معلوم نہیں کہ تو نے مجھے روپیہ واپس دے دیا ہے۔“ ( ملفوظات، جلد اول صفحه ۱۵،۱۴) بَاب :۳۷: مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ جس نے اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کیا ٦٥٠٠ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ :۶۵۰۰ بد به بن خالد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَهُ حَدَّثَنَا ( بن يحي ) نے ہمیں بتایا کہ قتادہ نے ہم سے بیان أَنَسُ بْنُ مَالِكِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ کیا، حضرت انس بن مالک نے ہمیں بتایا، حضرت رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا رَدِيفُ انس نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ایک بار میں نبی صلی اللہ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے پیچھے سوار تھا۔میرے بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا آخِرَةُ الرَّحْلِ فَقَالَ يَا اور آپ کے درمیان کجاوے کی پچھلی لکڑی کے مُعَاذُ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ سوا اور کچھ نہ تھا آپ نے فرمایا: اے معاذ! میں وَسَعْدَيْكَ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہ ! اور آپ کی خدمت يَا مُعَاذُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَسُولَ اللهِ میں ہوں۔پھر آپ تھوڑی دیر چلے پھر فرمایا: معاذ ! وَسَعْدَيْكَ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ يَا میں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہ اور آپ کی