صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 275 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 275

صحیح البخاری جلد ۱۵ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ۲۷۵ ۸۱ - كتاب الرقاق کروڑں مسلمان دنیا میں موجود ہیں اور مسجدیں بھی بھری ہوئی نظر آتی ہیں۔مگر کوئی برکت اور ظہور ان مسجدوں کے بھرے ہوئے ہونے سے نظر نہیں آتا۔اس لیے کہ یہ سب کچھ جو کیا جاتا ہے محض رسوم اور عادات کے طور پر کیا جاتا ہے۔وہ سچا اخلاص اور وفاجو ایمان کے حقیقی لوازم ہیں۔ان کے ساتھ پائے نہیں جاتے۔سب عمل ریاکاری اور نفاق کے پردوں کے اندر مخفی ہو گئے ہیں۔جوں جوں انسان ان کے حالات سے واقف ہوتا جاتا ہے۔اندر سے گند اور خبث نکلتا آتا ہے مسجد سے نکل کر گھر کی تفتیش کرو تو یہ ننگ اسلام نظر آئیں گئے۔مثنوی میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک کوٹھا ہزار من گندم سے بھرا ہوا خالی ہو گیا۔اگر چو ہے اس کو نہیں کھا گئے ، تو وہ کہاں گیا پس اسی طرح پر پچاس برس کی نمازوں کی جب برکت نہیں ہوئی۔اگر ریا اور نفاق نے ان کو باطل اور حبط نہیں کیا تو وہ کہاں گئیں۔“ (ملفوظات جلد ۲ صفحه ۶۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جس کے اعمال میں کچھ بھی ریاکاری ہو خدا اُس کے عمل کو واپس اُلٹا اس کے منہ پر مارتا ہے۔( ملفوظات، جلد اول صفحہ ۵۱۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: متقی کو ہمیشہ شیطان کے مقابل جنگ ہے ، لیکن جب وہ صالح ہو جاتا ہے تو ، گل جنگیں بھی ختم ہو جاتیں ہیں۔مثلاً ایک ریاء ہی ہے جس سے اسے آٹھوں پہر جنگ ہے۔متقی ایک ایسے میدان میں ہے، جہاں ہر وقت لڑائی ہے۔اللہ کے فضل کا ہاتھ اس کے ساتھ ہو ، تو اسے فتح ہو۔جیسے ریاء جس کی چال ایک چیونٹی کی طرح ہے۔۔۔نیز فرمایا: ”میں نے تذکرۃ الاولیا میں دیکھا ہے کہ ایک مجمع میں ایک بزرگ نے سوال کیا کہ اس کو کچھ روپیہ کی ضرورت ہے۔کوئی اس کی مدد کرے۔ایک نے صالح سمجھ کر اس کو ایک ہزار روپیہ دیا۔اُنہوں نے روپیہ لے کر اس کی سخاوت اور فیاضی کی