صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 274
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۷۴ ۸۱ - كتاب الرقاق جائے تو عدل و انصاف سے کام لو۔ یہی وہ روح تھی جس نے بادشاہت پیدا ہو جانے کے بعد بھی مسلمانوں کے خیالات کو جمہوریت اور انصاف کی طرف مائل رکھا۔“ اسلام کا اقتصادی نظام، انوار العلوم جلد ۱۸ صفحه ۱۰۰۹) بَاب ٣٦ : الرِّيَاءُ وَالسُّمْعَةُ ریاکاری اور شہرت پسندی ٦٤٩٩ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۶۴۹۹: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی ( قطان ) يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے كُهَيْلِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا روایت کی کہ مجھے سلمہ بن کہیں نے بتایا۔ اور ابو نعیم سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ جُنْدَبًا يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ اُنہوں نے سلمہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا میں نے حضرت جندب بن عبداللہ بجلی سے سنا وہ کہتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ( سلمہ کہتے تھے) اور میں نے اُن کے سوا کسی کو یہ وَسَلَّمَ غَيْرَهُ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَسَمِعْتُهُ کہتے نہیں سنا ہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ یہ سن کر میں حضرت جندب کے قریب گیا اور میں وَسَلَّمَ - مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللهُ بِهِ وَمَنْ نے اُن سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ يُرَائِي يُرَانِي اللهُ بِهِ۔ طرفه: ٧١٥٢ - وسلم نے فرمایا: جس نے سنانے کے لئے نیک کام کئے اللہ بھی اس کی شہرت کرے گا اور جس نے دکھاوے کے لئے کام کئے تو اللہ بھی اس کے کاموں کو بطور دکھلاوے کے ہی رکھے گا۔ تشریح : الرِّيَاءُ وَالسُّمْعَة: ریا کاری اور شہرت پسندی۔ علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں۔ منی لکھتے ہیں کہ الرياء هو إظهار العِبَادَة لقصد رُؤْيَة النَّاسِ لَهَا فيحمدوا صاحبها (عمدة القاری، جزء ۲۳ صفحه ۸۵، ۸۶) ریا کاری کا مطلب ہے عبادت اس مقصد کیلئے کرنا کہ لوگ اسے دیکھیں اور (عبادت) کرنے والے کی تعریف کریں۔