صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 273
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۷۳ ۱- کتاب الرقاق پس اس آخری زمانے میں امانت کے اُٹھ جانے کی اس انذاری پیشگوئی کے بڑی صراحت سے پورا ہو جانے کے بعد مسلمانوں کو اس خوشخبری اور تبشیر پر غور کرنا چاہیئے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ کے طور پر ایک یا ایک سے زیادہ ایسے برگزیدہ وجودوں کی آمد کی خبر دی گئی ہے جیسا کہ فرمایا : لو كَانَ الإِيمَانُ عِنْدَ الكُرَيَّا لَنَا لَهُ رِجَالٌ أَوْ رَجُلٌ مِنْ هَؤُلاء اگر ایمان ثریا کہ پاس بھی ہو تو ان میں سے کچھ مرد یا فرمایا ایک مرد اس تک پہنچ جائیں گے۔ پیس جب اللہ تعالیٰ اس امانت کو کسی کے سپرد کر دے تو مسلمانوں کا بلکہ ساری دنیا کا یہ فرض ہے کہ جسے خدا نے اس امانت کا اہل سمجھا وہ اُس کی بیعت کر کے ان تُؤَدُّوا الْآمُنتِ إِلَى أَهْلِهَا ( النساء: (۵۹) کے مطابق اس امین کو اپنا امین بنائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت کو حرز جان بنالیں اب اگر امانت دوبارہ قائم ہو سکتی ہے تو اس کا ایک ہی طریق ہے جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں بیان فرمایا ہے۔ تلزم جماعة المُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الفِرَقَ كُلَّهَا ( صحيح البخاري، كتاب الفتن، بَاب كَيْفَ الأَمْرُ إِذَا لَمْ تَكُن جماعة روایت نمبر ۷۰۸۴) مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہنا ۔ ان تمام فرقوں سے الگ رہنا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام کے نزدیک کوئی نسلی بادشاہ نہیں وہ صاف اور کھلے طور پر فرماتا ہے کہ ان اللهَ يَا مُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمْنَتِ إِلَى أَهْلِهَا یعنی خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم حکومت کی امانت ہمیشہ اہل لوگوں کے سپر د کیا کرو۔ پس اسلام کسی نسلی بادشاہت کا قائل نہیں بلکہ اسلام کے نزدیک حکومت انتخابی اصل پر قائم ہے اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ غور و فکر کے بعد اپنی قوم میں سے بہترین شخص کے سپرد حکومت کی امانت کیا کریں۔ جب تک مسلمان قرآن کریم کے احکام پر عمل کرتے رہے وہ اسی رنگ میں حکام کا انتخاب کرتے رہے اور آئندہ بھی جب مسلمانوں کو قرآن کریم کے ان احکام پر عمل کرنے کی توفیق حاصل ہو گی اُن کے لئے پہلا حکم یہی ہو گا کہ تم خود کسی شخص کو حکومت کے لئے منتخب کرو۔ اور پھر دوسرا حکم یہ ہو گا کہ تم کسی کو اس لئے نہ چنو کہ وہ اعلیٰ خاندان میں سے ہے کسی کو اس لئے نہ چنو کہ وہ جابر ہے، کسی کو اِس لئے نہ چنو کہ وہ مالدار ہے، کسی کو اس لئے نہ چنو کہ اُس کے ساتھ جتھہ ہے بلکہ تم اس لئے چنو کہ وہ ملک کی حکومت کے لئے بہترین شخص ثابت ہو گا۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے حکام کو یہ حکم دیدیا کہ جب تمہارا انتخاب عمل میں آ ا۔ (صحيح البخاری، کتاب التفسير سورة الجمعة، بَابُ قَوْلُهُ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ روایت نمبر ۴۸۹۷)