صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 272
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۷۲ ۸۱ - کتاب الرقاق يَقُوْلُ قَالَ الْأَصْمَعِيُّ وَ أَبُوْ عَمْرٍو وَ نے ابو احمد بن عاصم (بیٹی) سے سنا وہ کہتے تھے غَيْرُهُمَا جَذْرُ قُلُوبِ الرِّجَالِ، الْجَذْرُ میں نے ابو عبید سے سنا وہ کہتے تھے (عبد الملک الْأَصْلُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَ الْوَكْتُ بن قريب) اصمعی اور ابو عمرو ( بن علاء قاری) أَثَرُ الشَّيْءِ الْيَسِيرِ مِنْهُ وَ الْمَجْلُ وغیرہ نے کہا جذر کا لفظ جو حدیث میں ہے اس کا أَثَرُ الْعَمَلِ فِي الْكَفِّ إِذَا غَلُظَ۔معنی ہے ہر چیز کی جڑ اور وکت کہتے ہیں ہلکے خفیف داغ کو اور مجل وہ موٹا چھالا جو کام کرنے أطرافه: ٧٠٨٦، ٧٢٧٦ - سے ہتھیلی پر پڑ جاتا ہے۔٦٤٩٨: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۶۴۹۸ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے ، زہری نے سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ کہا مجھے سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ حضرت عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے۔میں نے رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے يَقُولُ إِنَّمَا النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِائَةِ لَا تھے۔لوگ بھی اونٹوں کی طرح ہیں سو ہوں تو ان میں ایک سواری کا اونٹ بھی تمہیں نہیں ملتا۔تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً۔شریح : رَفعُ الْأَمَانَة: امانت کا اُٹھ جانگ زیر باب حدیث میں انداری پیشگوئی کی گئی ہے جس کا نوحہ حالی نے بھی کیا اور دیگر شاعروں نے بھی چنانچہ ایک شاعر نے کہا: ہو گئے حکمراں کمینے لوگ خاک میں مل گئے نگینے لوگ (حبیب جالب) زیر باب اِس انداری خبر میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں پر ایک وقت آئے گا جب امانت ان کے اندر سے اُٹھ جائے گی اور ڈھونڈے سے بھی ان میں کوئی امین نہ ملے گا۔ایمان جو کہ سب سے بڑی امانت ہے جب کسی قوم سے اُٹھ جائے تو قومیں از خود اس ایمان کو دوبارہ پیدا نہیں کر سکتیں۔جب سے نسل انسانی کا آغاز ہوا ہے انسانوں کی اجتماعی گمراہی کا ایک ہی طریق علاج اپنایا گیا ہے اور وہ ہے : وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ الْأَوَّلِينَ وَ لَقَدْ أَرْسَلْنَا فِيهِمْ منذرين (الصافات: ۷۳،۷۲) اور یقینا اُن سے قبل بہت سی پہلی قومیں گمراہ ہوئیں اور ہم نے اُن میں رسول بھیجے۔