صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 271
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۷۱ ۸۱ - كتاب الرقاق مِثْلَ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَی کی طرح باقی رہ جاتا ہے۔پھر وہ دوسری نیند سوتا رِجْلِكَ فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ ہے اور وہ اور سمیٹ لی جاتی ہے تو پھر اس کا نشان شَيْءٍ فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ فَلَا چھالے کی طرح رہ جاتا ہے جیسے تم چنگاری اپنے يَكَادُ أَحَدُهُمْ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ فَيُقَالُ پاؤں پر گراؤ تو ایک چھالا پھول آتا ہے۔تم اس إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا وَيُقَالُ کو الگ تھلگ باہر نکلے ہوئے دیکھتے ہو اور اس لِلرَّجُلِ مَا أَعْقَلَهُ وَمَا أَظْرَفَهُ وَمَا میں کچھ نہیں ہوتا۔پھر لوگ صبح کو آپس میں خرید و فروخت کرنے لگتے ہیں اور ایک شخص بھی أَجْلَدَهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا أُبَالِي أَيَّكُمْ بَايَعْتُ لَئِنْ قریب نہیں ہو تا کہ امانت ادا کرے اور پھر کہنے لگتے ہیں کہ فلاں خاندان میں ایک شخص ہے جو دیانت دار ہے اور اس شخص کے متعلق کہتے ہیں کہ كَانَ مُسْلِمًا رَدَّهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامُ وَإِنْ کیا ہی عظمند ہے اور کیا ہی خوش اخلاق ہے اور کیا ہی كَانَ نَصْرَانِيًّا رَدَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ فَأَمَّا دلیر ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ أُبَايِعُ إِلَّا فُلَانًا کے برابر بھی ایمان نہیں ہوتا اور مجھ پر ایک ایسا وَفُلَانًا۔زمانہ آچکا ہے کہ میں پروا نہیں کرتا تھا کہ کس شخص سے میں نے خرید و فروخت کا معاملہ کیا ہے۔اگر وہ مسلمان ہو تا تو اسلام اس کو روکتا اور اگر نصرانی ہوتا تو یہ خوف اس کو روکے رکھتا کہ کہیں اس کا رئیس (سردار) اسے میرے پاس بھیج دے گا۔مگر آج یہ حالت ہے کہ میں فلاں فلاں شخص کے سوا کسی سے خرید و فروخت کا معاملہ نہیں کرتا۔قَالَ الفِرَبْرِيُّ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثْتُ فربری نے کہا ابو جعفر (محمد بن ابی حاتم جو امام أَبَا عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ سَمِعْتُ أَبَا اَحْمَدَ بخاری کے منشی تھے ) نے کہا: میں نے ابو عبد اللہ بْنَ عَاصِمٍ يَقُوْلُ سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدٍ (امام بخاری ) کو حدیث سنائی تو وہ کہنے لگے میں