صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 269
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۶۹ ۱- کتاب الرقاق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ (النساء: ۱۰۱) اور جو (شخص) اللہ اور اس کے رسول کی طرف اپنے گھر سے ہجرت کر کے نکلے پھر اُسے موت آ جائے تو سمجھو کہ ) اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہو چکا۔ مگر جو لوگ اپنے دین اور ایمان کو خطرے میں ڈال کر با وجود استطاعت کے ہجرت نہ کریں قرآن کریم اُن کو ظالم قرار دیتا ہے۔ (النساء: (۹۸) اصل ہجرت اللہ اور اُس کے رسول کی طرف آنا اور گناہوں کی سر زمین کو چھوڑنے کا نام ہے۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَالمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا تهَى اللَّهُ عَنْهُ ( صحيح البخاری، کتاب الايمان، باب المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُون ۔۔۔) اصل مہاجر وہ ہے جو اس بات کو جسے اللہ نے منع فرمایا ہے چھوڑ دے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ایک سکھ طالبعلم تھا جس کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بڑی عقیدت تھی۔ تو اس نے آپ کو لکھا کہ پہلے تو مجھے خدا کی ہستی پر بڑا یقین تھا لیکن اب مجھے کچھ کچھ شکوک و شبہات پیدا ہونے لگ گئے ؟ گئے ہیں۔ تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو جواب دیا کہ تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی دہریت کے خیالات رکھتا ہے جس کا تم پہ اثر پڑ رہا ہے ، اس لئے اپنی جگہ بدل لو۔ چنانچہ اس نے اپنی سیٹ بدل لی اور خود بخود اس کی اصلاح ہو گئی۔ فرماتے ہیں کہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انسان پر کتنا برا اثر پڑتا ہے۔ پر کتنا برا اثر پڑتا ہے۔ یعنی یہی حکمت ہے جس کے ما تحت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس کسی مجلس میں تشریف رکھتے تھے تو بڑی کثرت سے استغفار فرمایا کرتے تھے تاکہ کوئی بری تحریک آپ کے قلب مطہر پر اثر انداز نہ ہو۔“ (خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۱۱، جون ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۳۹۵) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جو شخص بدرفیق کو نہیں چھوڑتا جو اس پر بد اثر ڈالتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۹) بَاب ٣٥ : رَفْعُ الْأَمَانَةِ امانت کا اُٹھ جانا ٦٤٩٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ۶۴۹۶: محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا کہ