صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 266 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 266

صحیح البخاری جلد ۱۵ الْأَعْمَالُ بِخَوَاتِيمِهَا۔أطرافه ۲۸۹۸، ٤٢٠٢ ٤٢٠٧، ٦٦٠٧- ۲۶۶ ۱ - کتاب الرقاق جنتیوں میں سے ہوتا ہے۔عملوں کا اعتبار ان کے انجام سے ہی ہے۔تشريح۔الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيهِ وَمَا يُخَافُ مِنْهَا: اعمال کا اعتبار انجام پر ہے اور (برے) انجام سے ڈرنا۔خاتمہ بالخیر کی انسان کو ہمیشہ دعا بھی کرنی چاہیئے اور فکر اور کوشش بھی۔قرآن کریم نے حضرت ابراہیم کی ایک وصیت کو جو انہوں نے اپنے بیٹوں کو کی تھی، ہمیشہ کے لیے ایک راہنما اصول کے طور پر بیان فرمایا ہے وولى بِهَا إِبْرَاهِم بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يُبَنِيَّ إِنَّ اللهَ اصْطَفَى لَكُمُ الذِينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ) (البقرۃ: ۱۳۳) ترجمہ: اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور (اسی طرح) یعقوب نے بھی (اپنے بیٹوں کو ) اس بات کی تاکید کی (اور کہا کہ ) اے میرے بیٹو! اللہ نے یقیناً اس دین کو تمہارے لئے چن لیا ہے۔پس ہر گز نہ مرنا مگر اس حالت میں کہ تم (اللہ کے) پورے فرمانبردار ہو۔اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کو ہر وقت فرمانبردار رہنا چاہیئے۔کیونکہ موت کا تو پتہ نہیں کہ کب آجائے۔اس میں اعمالِ صالحہ کرنے والوں کو بھی نصیحت کی ہے کہ بھی اپنے اعمال پر ناز نہ کرنا، ڈرتے رہنا کہیں کوئی لغزش نہ ہو جائے جو ساری زندگی کی نیکیوں کو بھسم کر دے۔زیر باب روایت میں خود کشی کے جس واقعہ کا ذکر ہے اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے انسان کے بعض گناہ اُسے اندر سے اس قدر کھو کھلا کر چکے ہوتے ہیں کہ ان کے بعد بڑی بڑی نیکیاں بھی ان گناہوں کے بداثرات کو نہیں مٹاسکتیں۔جہاد کتنا بڑا عمل ہے مگر اس شخص کے اندر کے گند کو نہ دھو سکا۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی عمارت کی بنیادوں اور تعمیر کے مراحل میں کچھ ایسے خلا اور کمزور حصے نظر انداز ہو جائیں جن پر وہ عمارت کھڑی ہے۔باہر کے پلستر اور ٹائلیں اندر کے ان خلاؤں کو پر نہیں کر سکتیں، نتیجہ وہ عمارت دھڑام سے نیچے آگرتی ہے۔اس کی ایک اور مثال حدیث میں اس غلام کی ہے جس نے مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے ایک چادر چوری کر لی۔اس گناہ کی تاریکی نے اُسے ایسا گور باطن کر دیا کہ باوجودیکہ اس کی وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کو تیار کرنے کی خدمت کے دوران اچانک کسی طرف سے آنے والے ایک تیر سے واقع ہوئی مگر قومی مال کی چوری کا وہ گناہ اس کے لیے جہنم کی آگ کو بھڑکا تا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا۔(صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوة خيبر، روایت نمبر ۴۲۳۴) اس لیے کسی کی خدمت اور اعمال حسنہ کو دیکھ کر بھی اس کے انجام بخیر کالازمی نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو کسی کے اعمال کو دیکھ کر اس کے متعلق حتمی رائے قائم کرنے سے منع فرماتے تھے۔فرمایا تم یہ کہا کرو کہ میرا گمان یہ ہے کہ وہ ایسا ہے وَحِسَابُهُ الی اللہ اس کا اصل حساب اور معاملہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔فرمایا: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لا فَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلانَا وَاللهُ حَسِيبُهُ وَلا أَرى عَلَى اللهِ أَحَدًا أَحْسِبُهُ كَذَا وَكَذَا (صحيح البخاری، کتاب الشهادات بَاب إِذَا رَأَى رَجُلٌ رَجُلًا كَفَاهُ ، روایت نمبر ۲۶۶۲) فرمایا: تم میں سے جس نے اپنے بھائی کی ضرور تعریف ہی کرنی ہو تو چاہیے کہ وہ یوں کہے کہ میں فلاں کو یوں سمجھتا ہوں اور اللہ ہی اس سے خوب واقف ہے۔میں اللہ کے سامنے کسی کو بے عیب نہیں کہہ سکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسا ایسا ہے۔