صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 264 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 264

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۶۴ ۸۱ - کتاب الرقاق قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي بِذَلِكَ زمانے میں اُن کو ہلاک کر دینے والے گناہ شمار الْمُهْلِكَاتِ۔کیا کرتے تھے۔ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: موبقات سے اُن کی مراد ہلاک کرنے والے گناہ ہیں۔شريح۔مَا يُتَقَى مِنْ مُحَقِّرَاتِ الذُّنُوبِ: چھوٹے چھوٹے گناہوں سے جو بچا جائے۔حضرت خلیفۃ اصیح الخامس ایدہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ”یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ کسی گناہ کو بھی انسان چھوٹانہ سمجھے۔کیونکہ جب یہ سوچ پیدا ہو جائے کہ یہ معمولی گناہ ہے تو پھر بیماری کا بیچ ضائع نہیں ہوتا اور حالات کے مطابق یہ چھوٹے گناہ بھی بڑے گناہ بن جاتے ہیں۔پس اس لحاظ سے ہم سب کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو ہر چھوٹے گناہ کی بھی اور بڑے گناہ کی بھی باز پرس اور سزا رکھی ہے۔پھر جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھتے ہیں کہ آپ نے چھوٹے بڑے گناہ اور نیکی کی کس طرح تعریف اور وضاحت فرمائی ہے تو مختلف موقعوں اور مختلف لوگوں کے لئے آپ کے مختلف ارشادات ملتے ہیں۔کہیں آپ نے یہ پوچھنے پر کہ بڑی نیکی کیا ہے؟ فرمایا کہ ماں باپ کی خدمت کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔کسی شخص کو آپ بڑی نیکی کے بارے میں پوچھنے پر فرماتے ہیں کہ تہجد کی ادائیگی بہت بڑی نیکی ہے۔کسی کے یہ پوچھنے پر کہ بڑی نیکی کیا ہے ؟ آپ فرماتے ہیں کہ تمہارے لئے بڑی نیکی یہ ہے کہ جہاد میں شامل ہو جاؤ۔پس اس سے ثابت ہوا کہ بڑی نیکی مختلف حالات اور مختلف لوگوں کے لئے مختلف ہے۔“ (خطبات مسرور ، خطبہ جمعہ فرموده ۱۳، دسمبر ۲۰۱۳ جلد ۱ صفحه ۶۸۴) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اگر کوئی بیمار ہو جاوے خواہ اس کی بیماری چھوٹی ہو یا بڑی، اگر اُس بیماری کے لئے دوانہ کی جاوے اور علاج کے لئے دُکھ نہ اُٹھایا جاوے، بیمار اچھا نہیں ہو سکتا۔ایک سیاہ داغ منہ پر نکل کر ایک بڑا فکر پیدا کر دیتا ہے کہ کہیں یہ داغ بڑھتا بڑھتا گل منہ کو کالانہ کر دے۔اسی طرح معصیت کا بھی ایک سیاہ داغ دل پر ہوتا ہے۔صغائر