صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 263
صحیح البخاری جلد ۱۵ لَهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً۔۲۶۳ ۸۱ - كتاب الرقاق پوری نیکی لکھے گا اور اگر وہ اس پر آمادہ ہوا اور اُس کو کر لیا تو اللہ اس کے لئے ایک ہی بدی لکھے گا۔تشريح۔مَنْ هَم بِحَسَنَةٍ أَوْ بِسَيْئَةٍ: جوبدی یا نیکی کرے پر آمادہ ہوا۔علامہ بدرالدین عینی نظم کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: الْهَم تَرْجِیحُ قَصْدِ الْفِعْلِ، تَقُولُ: هَمَمْتُ بِكَذَا أَي: قَصَدَتُهُ حمَّتِي وَهُوَ فَوقَ مُجَرَّدِ خُطُورِ الشَّيْء بالقلب۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۷۹) کسی کام کے کرنے کو ترجیح دینا۔ممت بكذا میں نے ارادہ کیا۔دل میں صرف خیال آنے سے فوق ہے۔یعنی کسی کام کے کرنے کا پختہ دل سے ارادہ کرنا۔قيل: إذا هم العبد بالسيئة ولم يعمل بها فغايته أن لا تكتب لَهُ سَيِّئَة فَمَن أَيْن أَن تَكُتب لَهُ حَسَنَة ؟ وأجيب: بأن الكف عن القَر حَسَلة (عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۸۰) کہا گیا ہے جب بندہ نے بدی کا ارادہ کیا اور اس پر عمل نہ کیا تو اس کا مطلب زیادہ سے زیادہ تو یہ ہوسکتا ہے کہ اس کی بدی لکھی نہ جائے تو پھر نیکی کیسے لکھی جاتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بدی سے رکنا بھی نیکی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وَإِن لَّمْ يُتِمُّوا أَمْرَ الْإِطَاعَةِ وَمَا عَبَدُوْا حَقَّ الْعِبَادَةِ وَمَا عَرَفُوا حَقَّ الْمَعْرِفَةِ ولكن كَانُوا عَلَيْهَا حَرِيصِينَ “ (کرامات الصادقین روحانی خزائن جلدے صفحہ ۱۱۶) گو وہ اطاعت کے معاملہ کو پورے کمال تک نہ پہنچا سکے اور نہ عبادت کا پورا حق انہ ادا کر سکے ہوں اور نہ ہی معرفت کی حقیقت کو پوری طرح پاسکے ہوں۔لیکن ان باتوں کے حصول کے شدید خواہش مند رہے ہوں۔بَاب ٣٢: مَا يُتَّقَى مِنْ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ چھوٹے چھوٹے گناہوں سے جو بچا جائے ٦٤٩٢: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا :۶۴۹۲ ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ مہدی مَهْدِي عَنْ غَيْلَانَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ (بن میمون) نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے غیلان اللهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالاً (بن جریر) سے غیلان نے حضرت انس رے هِيَ أَدَقُ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعَرِ إِنْ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: تم ایسے کام کرتے كُنَّا لَنَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ رہتے ہو جو تمہاری آنکھوں میں بال سے بھی زیادہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُوبِقَاتِ باریک ہوتے ہیں۔ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے