صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 3 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 3

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۰- كتاب الدعوات انسان بغیر ان قدرتی نشانوں کے ظاہر ہونے کے جو دُعا کے بعد ظاہر ہوتے ہیں اُس بچے ذوالجلال خدا کو پاہی نہیں سکتا جس سے بہت سے دل دور پڑے ہوئے ہیں۔نادان خیال کرتا ہے کہ دعا ایک لغو اور بیہودہ امر ہے مگر اُسے معلوم نہیں کہ صرف ایک دُعا ہی ہے جس سے خداوند ذوالجلال ڈھونڈنے والوں پر تجلی کرتا اور آنا القادر کا الہام اُن کے دلوں پر ڈالتا ہے۔ہر ایک یقین کا بھوکا اور پیاسا یاد رکھے کہ اس زندگی میں رُوحانی روشنی کے طالب کے لئے صرف دعا ہی ایک ذریعہ ہے جو خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین بخشا اور تمام شکوک و شبہات ڈور کر دیتا ہے کیونکہ جو مقاصد بغیر دعا کے کسی کو حاصل ہوں وہ نہیں جانتا کہ کیونکر اور کہاں سے اس کو حاصل ہوئے۔بلکہ صرف تدبیروں پر زور مارنے والا اور دعا سے غافل رہنے والا یہ خیال نہیں کر سکتا کہ یقیناً حقاً خدا تعالیٰ کے ہاتھ نے اُس کے مقاصد کو اس کے دامن میں ڈالا ہے یہی وجہ ہے کہ جو شخص دُعا کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر کسی کامیابی کی بشارت دیا جاتا ہے وہ اس کام کے ہو جانے پر خدا تعالیٰ کی شناخت اور ا معرفت اور محبت میں آگے قدم بڑھاتا ہے اور اس قبولیت دعا کو اپنے حق میں ایک عظیم الشان نشان دیکھتا ہے اور اسی طرح وقتا فوقتا یقین سے پر ہو کر جذبات نفسانی اور ہر ایک قسم کے گناہ سے ایسا مجتنب ہو جاتا ہے کہ گویا صرف ایک روح رہ جاتا ہے۔لیکن جو شخص دُعا کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کے رحمت آمیز نشانوں کو نہیں دیکھتا وہ باوجود تمام عمر کی کامیابیوں اور بے شمار دولت اور مال اور اسباب متنعم کے دولت حق الیقین سے بے بہرہ ہوتا ہے اور وہ کامیابیاں اس کے دل پر کوئی نیک اثر نہیں ڈالتیں بلکہ جیسے جیسے دولت اور اقبال پاتا ہے غرور اور تکبر میں بڑھتا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ پر اگر اس کو کچھ ایمان بھی ہو تو ایسا مر دہ ایمان ہوتا ہے جو اُس کو نفسانی جذبات سے روک نہیں سکتا اور حقیقی پاکیزگی بخش نہیں سکتا۔“ ایام الصلح، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۰،۲۳۹)