صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 2
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۰ - كتاب الدعوات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کو عبادت بلکہ عبادت کا مغز قرار دیا ہے۔فرمایا: الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ یا اللقاء فتح العِبَادَة - دعا خالق اور مخلوق اور بندے اور خدا میں رابطے کا وہ ذریعہ ہے جس سے بندہ خدا کا مقرب بنتا چلا جاتا ہے۔اور پھر یہ تعلق یک طرفہ نہیں رہتا بلکہ مکالمہ و مخاطبہ کا یہ سلسلہ مقربین کے ساتھ اس نقطہ عروج پر پہنچتا ہے جہاں عبد کامل دنا فتدلى ، فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْن او ادنی (النجم : ۱۰۹) کا مقام پاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”دعا اور استجابت میں ایک رشتہ ہے کہ ابتدا سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا برابر چلا آتا ہے۔جب خدا تعالیٰ کا ارادہ کسی بات کے کرنے کے لئے توجہ فرماتا ہے تو سنت اللہ یہ ہے کہ اُس کا کوئی مخلص بندہ اضطرار اور کرب اور قلق کے ساتھ دُعا کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے اور اپنی تمام ہمت اور تمام توجہ اس امر کے ہو جانے کے لئے مصروف کرتا ہے۔تب اُس مردِ فانی کی دُعائیں فیوض الہی کو آسمان سے کھینچتی ہیں اور خدا تعالیٰ ایسے نئے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن سے کام بن جائے۔یہ دُعا اگر چہ بعالم ظاہر انسان کے ہاتھوں سے ہوتی ہے مگر در حقیقت وہ انسان خدا میں فانی ہوتا ہے اور دُعا کرنے کے وقت میں حضرت احدیت و جلال میں ایسے فتا کے قدم سے آتا ہے کہ اُس وقت وہ ہاتھ اُس کا ہاتھ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے۔یہی دُعا ہے جس سے خدا پہچانا جاتا ہے اور اُس ذوالجلال کی ہستی کا پتہ لگتا ہے جو ہزاروں پر دوں میں مخفی ہے۔سچ یہی ہے کہ اگر یہ دعانہ ہوتی تو کوئی انسان خداشناسی کے بارے میں حق الیقین تک نہ پہنچ سکتا۔جب انسان اخلاص اور۔توحید اور محبت اور صدق اور صفا کے قدم سے دُعا کرتا کرتا فنا کی حالت تک پہنچ جاتا ہے تب وہ زندہ خدا اس پر ظاہر ہوتا ہے جو لوگوں سے پوشیدہ ہے دعا کی ضرورت نہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم اپنے دنیوی مطالب کو پاویں بلکہ کوئی ل (سنن الترمذی، کتاب الدعوات، باب مِنْهُ، روایت نمبر ۳۳۷۱، ۳۳۷۲) ترجمه از تفسیر صغیر : ” اور وہ (یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بندوں کے اس اضطراب کو دیکھ کر اور ان پر رحم کر کے خدا سے ملنے کے لئے) اس کے قریب ہوئے اور وہ (خدا) بھی ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے شوق میں) اوپر سے نیچے آگیا۔اور وہ دونوں دو کمانوں کے متحدہ وتر کی شکل میں تبدیل ہو گئے اور ہوتے ہوتے اس سے بھی زیادہ قرب کی صورت اختیار کرلی۔“