صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 262
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۶۲ ۸۱ - کتاب الرقاق حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو سامنے رکھیں کہ دنیاوی مال و اسباب کے لحاظ سے اپنے سے کمتر کو دیکھو اور روحانی لحاظ سے اپنے سے بڑھے ہوئے کو دیکھو تا کہ مادی دوڑ میں بڑھنے کی بجائے روحانی دوڑ میں بڑھنے کی کوشش کرو۔“ خطبه جمعه فرموده ۲۸/ اکتوبر ۲۰۱۶ء، مطبوعه الفضل انٹر نیشنل ۱۸، نومبر ۲۰۱۶ صفحه ۶) بَاب ۳۱: مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ أَوْ بِسَيِّئَةٍ جو بدی یا نیکی کرنے پر آمادہ ہوا ٦٤٩١: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۶۴۹۱: ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوارث عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا جَعْدٌ أَبُو عُثْمَانَ ( بن سعید) نے ہمیں بتایا۔جعد (بن دینار) حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءِ الْعُطَارِدِيُّ عَنِ ابو عثمان نے ہم سے بیان کیا کہ ابور جاء عطاردی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَن نے ہمیں بتایا، ابور جاء نے حضرت ابن عباس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے نبی يَرْوِيَ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ قَالَ إِنَّ صلی اللہ علیہ وسلم سے منجملہ اُن باتوں کے جو اپنے اللهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ ثُمَّ رب عزوجل سے روایت کیا کرتے تھے سنا۔حضرت ابن عباس نے کہا، آپ نے فرمایا کہ اللہ بَيَّنَ ذَلِكَ فَمَنْ هُمْ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ نے نیکیاں اور بدیاں لکھ دی ہیں۔پھر ان کو کھول يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةٌ کر بیان کیا ہے اس لئے جو شخص نیکی کرنے پر آمادہ كَامِلَةً فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا ہوا مگر اس کو نہ کیا تو اللہ اس کے لئے اپنے پاس كَتَبَهَا اللهُ لَهُ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ پوری نیکی لکھے گا۔اگر اُس نے اُس کا ارادہ کیا اور إِلَى سَبْعَ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافِ اس کو کیا بھی تو اللہ اس کے لئے اپنے پاس دس كَثِيرَةٍ وَمَنْ هُمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا نیکیاں لکھے گا بلکہ سات سو گنا تک بلکہ ان سے كَتَبَهَا اللهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةٌ كَامِلَةً بھی بڑھ کر کئی گنا تک اور جس نے بدی کا ارادہ فَإِنْ هُوَ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللهُ کیا مگر اُسے کیا نہیں تو اللہ اس کے لئے اپنے پاس