صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 261 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 261

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۶۱ ۸۱ - کتاب الرقاق باب ٣٠ : لِيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ وَلَا يَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ چاہیے کہ وہ ان کی طرف دیکھے جو اُس سے نیچے ہیں اور اُن کی طرف نہ دیکھے جو اس سے اوپر ہیں ٦٤٩٠: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ۶۴۹۰: اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَن کیا۔اُنہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔انہوں الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ نے ابو زناد سے، ابو زناد نے اعرج سے، اعرج اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نے حضرت ابوہریرہ سے، حضرت ابوہریرہ نے نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُصِّلَ عَلَيْهِ فِي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ اس سے بڑھ کر مال دیا گیا ہے اور اس سے عمدہ أَسْفَلَ مِنْهُ مِمَّنْ فُضْلَ عَلَيْهِ۔نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اُن کو دیکھے جن کو بناوٹ دی گئی ہے تو چاہیے کہ وہ اُن کو بھی دیکھے جو اس سے نیچے ہیں جن پر اسے فضیلت دی گئی ہے۔تشريح۔لِيَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ: چاہیئے کہ وہ اُن کی طرف دیکھے جو اُس سے نیچے ہیں اور اُن کی طرف نہ دیکھے جو اُس سے اوپر ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام ترقی سے روکتا ہے اور مسابقت کی روح سے محروم کرنا چاہتا ہے وہ تو واضح فرماتا ہے وَلِكُلّ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلِيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ (البقرۃ:۱۴۹) اور ہر ایک (شخص) کا ایک نہ ایک مطمح نظر ہوتا ہے جسے وہ (اپنے آپ پر مسلط کر لیتا ہے سو ( تمہارا اطمح نظریہ ہو کہ) تم نیکیوں کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر و عنوان باب اور حدیث الباب میں انسان کی دو نفسیاتی بیماریوں کی نشان دہی کی گئی ہے اور ان کا نہایت حکیمانہ علاج بتایا گیا ہے۔وہ دو بیماریاں جو انسانی معاشرہ میں بڑے بڑے فتنوں اور ابتلاؤں کا باعث بنتی ہیں، وہ ہیں لالچ، حرص اور حسد مال اور ظاہری حسن میں جو بر تر ہو اس سے کمتر طبقہ کے لوگ حرص و ہوس اور حسد میں جلتے رہتے ہیں۔ان کے مال اور حسن کو کم نہیں کر سکتے اور اپنے تخلیقی حسن اور مال کو بڑھا نہیں سکتے نتیجہ حسد میں جلتے رہتے ہیں۔اس کا ایک ہی حل ہے کہ اگر اپنے سے اوپر تمہیں مال اور حسن والے نظر آتے ہیں تو اپنے نیچے بھی دیکھو مال اور حسن تو دور کی بات ہے انتہائی مفلوک الحال تنگ دست اور معذور اور اپانچ لوگوں کو دیکھو یہ تمہیں شکر اور حمد میں بڑھائیں گے اور دراصل یہی وہ سچی راہ ہے جو تمہاری کمزوری کا ازالہ اور اطمینان قلب کا باعث بن سکتی ہے۔اس لیے نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہونے اور احساس کمتری اور ڈپریشن کا شکار ہونے کی بجائے اپنے اندر شکر پیدا کر و اور خدا کے اس وعدہ پر یقین رکھو: لين شَكَرْتُم لازید تكُم (ابراهیم : ۸) اگر تم شکر گذار بنے تو میں تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا۔