صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 260 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 260

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۶۰ ۸۱ - کتاب الرقاق وہ ہے جنت اور دوزخ انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔اس کی ہوش اور خرد کی زندگی، آغاز سے اختتام تک ہر لمحہ جو اطاعت الہی اور مرضی مولی کے مطابق گزارے وہ جنت ہے اور ہر وہ لمحہ جو نافرمانی اور خدا کی مرضی کے خلاف ہو ہ جہنم ہے صوفیاء کا زبان زدِ عام محاورہ ہے جو دم غافل سو دم کافر۔بہت عارفانہ نکتہ ہے جو صوفیاء نے بیان کیا ہے اور بہت عمدہ اور جامع خلاصہ ہے اسلامی تعلیم کا۔یہی مضمون عنوانِ باب اور حدیث الباب میں بیان کیا گیا ہے۔أَلا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا الله بَاطِلُ: لبید کے شعر کا یہ مصرعہ لا کر امام بخاری نے اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اللہ کے سوا جب سب کچھ فانی ہونے والا ہے تو ان فانی چیزوں سے کیوں دل لگایا جائے اس جی قیوم سے کیوں نہ دل جوڑا جائے۔فرمایا: كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ وَ يَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن: ۲۷ (۲۸) اس (یعنی زمین پر جو کوئی بھی ہے آخر ہلاک ہونے والا ہے۔اور صرف وہ بچتا ہے جس کی طرف تیرے جلال اور عزت والے خدا کی توجہ ہو۔قرآنِ کریم کے اس بے نظیر کلام کو پڑھ کر لبید نے بجا طور پر شعر کہنے چھوڑ دیئے سورج کے آگے دیا کیا حیثیت رکھتا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لبید عرب کا ایک مشہور شاعر تھا جو سات بڑے مشہور شاعروں میں سے ایک تھا۔پہلے وہ اسلام کا مخالف تھا مگر بعد میں ایمان لے آیا۔اسلام لانے کے بعد وہ ہر وقت قرآن کریم پڑھتا رہتا، اور اس نے شعر کہنے ترک کر دیئے۔حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ اپنے زمانہ خلافت میں کوفہ کے گورنر مغیرہ بن شعبہ کو چٹھی لکھی کہ اپنے علاقہ کے مشہور شاعروں سے اچھے اچھے اشعار لکھوا کر مجھے بھیجو۔مغیرہ نے اس کام کے لئے دو شاعر اغلب اور لبید پسند کئے اور انہیں کہا گیا خلیفہ وقت کا حکم آیا ہے کہ کچھ شعر لکھ کر بھیجو۔اس پر اغلب نے تو قصیدہ لکھا لیکن لبید نے کہا: جب سے میں اسلام لایا ہوں میں نے شعر کہنے چھوڑ دیئے ہیں۔جب انہیں مجبور کیا گیا تو وہ سورۃ بقرہ کی چند آیتیں لکھ کر لے آئے اور کہا کہ ان کے سوا مجھے کچھ نہیں آتا۔مغیرہ نے لبیڈ کو سزادی اور اغلب کی حضرت عمرہ کے پاس سفارش کی۔لیکن حضرت عمرؓ کو لبیڈ کی بات کی اتنی لذت آئی کہ انہوں نے کہا لبیڈ نے جو کچھ کہا ہے اس سے اس کے ایمان کا ثبوت ملتا ہے کہ اتنا قادر الکلام ہونے کے باوجود شرماتا ہے کہ قرآن کے سوا کچھ اور اپنی زبان سے نکالے۔“ (فضائل القرآن نمبر ۲، انوار العلوم جلد ۱۱، صفحه (۱۲۲)