صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 258
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۵۸ ۱ - کتاب الرقاق چاہیے کہ دروازہ بند کر کے اندر بیٹھ کر خشوع اور خضوع سے دعا میں مشغول ہو اور بالکل عجز و نیاز سے خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گر پڑے تا کہ وہ اس آیت کے نیچے نہ آوے۔جو بہت ہنستا ہے وہ مومن نہیں اگر سارے دن کا نفس کا محاسبہ کیا جاوے تو معلوم ہو کہ جنسی اور تمسخر کی میزان زیادہ ہے اور رونے کی بہت کم ہے بلکہ اکثر جگہ بالکل ہی نہیں ہے۔اب دیکھو کہ زندگی کس قدر غفلت میں گزر رہی ہے اور ایمان کی راہ کس قدر مشکل ہے گویا ایک طرح سے مرنا ہے اور اصل میں اسی کا نام ایمان ہے۔“ (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۴۵۶) باب ۲۸: حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ آگ نفسانی خواہشوں سے ڈھکی ہوئی ہے ٦٤٨٧: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ :۶۴۸۷: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔انہوں حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے ابو زناد الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ سے ، ابو زناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حُجِبَتِ ابوہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم نفسانی خواہشوں سے ڈھکی ہوئی ہے اور جنت ان باتوں سے ڈھکی ہوئی ہے جو نفس کو بری معلوم ہوتی ہیں۔بِالْمَكَارِهِ۔تشریح مُجبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ: آگ نفسانی خواہشوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔وقع عند أبي نعیم : باب حفت النار، وفي بعض النسخ بعده وحجبت الجنّة بالمكاره (عمدة القارى جزء ۲۳ صفحہ ۷۷) ابو نعیم کے نسخہ میں مُجبَتِ النَّارُ کی بجائے حفت النار ہے اسی طرح بعض نسخوں میں حجبت الجنة بالمکارہ کے الفاظ بھی عنوانِ باب میں ہیں۔یعنی جنت کو تکالیف اور مشقتوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔دنیا چونکہ دار الامتحان ہے جس میں کامیاب ہونے والے کو جزاء اور ناکام ہونے والے کو سزا ملے گی اس لیے اخروی زندگی میں ملنے والی دائمی جزاء اور نہ ختم ہونے والی جنت کے حصول کے لیے اس دنیا کی لذات اور پرکشش چیزوں کو قربان کرنا، نفس امارہ کو مار کر نفس مطمئنہ اور لقاء اور وصل کے مقام تک جانے کے لیے دنیوی لذات کی پرکشش وادیوں سے اور اور اپنے نفس کو بچاتے ہوئے اور نفس کی مرضی کے خلاف چلتے ہوئے ہی وہ منزل مقصود پائی جاسکتی ہے جس کے لیے