صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 257
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۵۷ ۱ - کتاب الرقاق ٦٤٨٦: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۶۴۸۶: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ عَنْ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے موسیٰ بن انس أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ سے، موسیٰ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا نے فرمایا: اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تم ہنتے تھوڑا اور روتے بہت۔أطرافه: ٩٣، ٥٤٠ ٧٤٩، ٤٦٢١ ٦٣٦٢ ، ،٦٤٦۸ ، ۷۰۸۹ ، ۷۰۹۰، ۷۰۹۱، ۷۲۹٤، ۷۲۹۵- تشريح۔لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمُ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا: اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تم ہنستے تھوڑا اور روتے بہت۔اس سے یہ مراد نہیں کہ انسان ہر وقت آنسو بہاتا رہے اور خوش ہونے اور ہنے کی ممانعت ہے بلکہ اس طرح ہے جیسے ایک ماہر ڈاکٹر کسی مریض کی اندر کی حالتوں کا معائنہ کرنے اور اس کے کمزور دفاعی نظام (weak immunity) کو دیکھ کر بتائے کہ اگر تمہیں اپنی حالت کا پتہ چل جائے تو تم ان خطرات کو دیکھ کر کبھی اپنے متعلق غفلت نہ بر تو بلکہ تشویش کی حد تک اپنے علاج کی فکر و کوشش کرو۔اس میں انسان کی اصلاح کا ایک قیمتی گر بتایا گیا ہے اور انسان کی معرفت کو ترقی کی وہ راہ دکھائی گئی ہے جس سے گناہ ایک زہر دکھائی دینے لگتا ہے اور نیکی ایک عمدہ غذا، جو اس کی روحانی زندگی کی نشو نما کا باعث بنتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر تم جانتے جو میں جانتا ہوں تم بنتے تھوڑا اور روتے بہت۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: دنیاوی تجمع کا حصہ انسانی زندگی میں بہت ہی کم ہونا چاہیے تا کہ فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلا و ليَبكُوا كَثِيرًا (التوبة: ۸۲) یعنی ہنسو تھوڑا اور روؤ بہت کا مصداق بنو لیکن جس شخص کی دنیاوی تمتع کثرت سے ہیں اور رات دن بیویوں میں مصروف ہے اس کو " رقت اور رونا کب نصیب ہو گا۔(ملفوظات، جلد ۴ صفحہ ۵۰) نیز آپ نے فرمایا: ”صوفیوں نے لکھا ہے کہ اگر چالیس دن تک رونانہ آوے تو جانو کہ دل سخت ہو گیا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے: فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَ ليَبكُوا كَثِيرًا (التوبة: ۸۲) کہ ہنسو تھوڑا اور روڈ بہت مگر اس کے برعکس دیکھا جاتا ہے کہ لوگ ہنستے بہت ہیں اب دیکھو کہ زمانہ کی کیا حالت ہے اس سے یہ مراد نہیں کہ انسان ہر وقت آنکھوں سے آنسو بہاتا رہے بلکہ جس کا دل اندر سے رو رہا ہے وہی روتا ہے۔انسان کو