صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 255
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۵۵ - كتاب الرقاق ٦٤٨٤: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۶۴۸۴: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا (بن زَكَرِيَّاءُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ ابی زائدہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عامر سے، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ عامر نے کہا میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمُ مَنْ سے سنا وہ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے اور جس کے ہاتھ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ۔ سے مسلمان سلامتی میں رہیں اور مہاجر وہ ہے جس طرفه : ۱۰ - نے اُن باتوں کو چھوڑ دیا جن سے اللہ نے روکا۔ تشریح : الانْتِهَاءُ عَنِ الْمَعَاصِی: گناہوں سے رک جانا نبی نذیر بھی ہوتا ہے اور بشیر بھی۔ اس جگہ صفت نذیر کا ذکر ہے۔ قرآن کریم نے بھی ہر اُمت میں نذیر آنے کا ذکر فرمایا ہے۔ وان من أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (فاطر: ۲۵) اور کوئی ایسی قوم نہیں جس میں (خدا کی طرف سے) کوئی ہوشیار کرنے والا نہ آیا ہو۔ اس زمانہ کے امام کو بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کی وحی میں یہ الہام متعدد بار کیا دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ براہین احمدیہ حصہ چہارم ، روحانی خزائن جلدا، بقیه حاشیه در حاشیہ نمبر ۴ صفحه ۶۶۵) زیر باب روایات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نذیر بتایا گیا ہے جو اپنی قوم کو ان کی کمر سے پکڑ پکڑ کر آگ میں گرنے سے بچاتا ہے۔ قرآن کریم اور ا اور احادیث میں غذا اعذاب الہی کی جتنی قسمیں بیان کی گئی ہیں وہ آپ کی آپ کی صفت نذیر کے اس پر تو میں دکھائی دیتی ہیں جس میں آپ قوم کو عذاب الہی سے صرف ہوشیار ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے لیے دعائیں کرتے کرتے اپنے آپ کو ہلاکت کے قریب لے جاتے ہیں جیسا کہ فرمایا: لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: (۴) شاید تو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالے گا کہ وہ کیوں نہیں مومن ہوتے۔ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ : مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے اور جس کے ہاتھ سے مسلمان سلامتی میں رہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ہم تو اس حدیث کو صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رکھتے بلکہ ہمارے نزدیک تو اس کی وسعت دنیا کے ہر امن پسند انسان تک ہے۔ عموماً یہی کہا جاتا ہے کہ مسلمان مسلمان سے محفوظ ہے لیکن حضرت مصلح موعود نے اس کی وسعت کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ صرف مسلمان تک محدود نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ