صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 1
صحیح البخاری جلد ۱۵ بسم الله الرحمن الرحيم ۸۰ - كِتَابُ اللعَوَاتِ ۸۰ - كتاب الدعوات كتاب الدعوات میں امام بخاری نے ۶۹ عناوین (ابواب) کے تحت ۱۴۵ مرفوع احادیث درج کی ہیں۔ان میں سے ۴۱ معلق اور ۱۰۴ متصل احادیث ہیں۔۱۲۱ مکرر جبکہ ۲۴ ایک دفعہ بیان ہوئی ہیں۔کتاب الدعوات کی ۱۳۷ احادیث متفق علیہ یعنی بخاری اور مسلم میں ہیں۔امام بخاری نے مرفوع احادیث کے علاوہ صحابہ و تابعین کے ۹ آثار بھی اس کتاب میں بیان کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۱۱ صفحہ ۲۷۴) الدعوات: یہ لفظ دَعْوَةٌ کی جمع اور دعا سے مشتق ہے۔دعا کے بنیادی معنی ہیں کسی کو آواز دے کر یا بات کر کے اپنی طرف مائل کرنا۔(مقاييس اللغة - دعو) ابو القاسم القشیری نے قرآنِ کریم کی آیات کے حوالے سے اس لفظ کے معانی عبادت، پکار، مانگتا اور مدد طلب کرنا بیان کیے ہیں۔(فتح الباری جزءا اصفحہ ۱۱۳) وو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: دعا اور دعوت کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کو اپنی مدد کے لیے پکارنا۔اور اس کا کمال اور مؤثر ہونا اس وقت ہوتا ہے جب انسان کمال دردِ دل اور قلق اور سوز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کو پکارے ایسا کہ اس کی روح پانی کی طرح گداز ہو کر آستانہ الوہیت کی طرف بہہ نکلے یا جس طرح پر کوئی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اور وہ دوسرے لوگوں کو اپنی مدد کے لیے پکارتا ہے تو دیکھتے ہو کہ اس کی پکار میں کیسا انقلاب اور تغیر ہوتا ہے، اس کی آواز ہی میں وہ درد بھرا ہوا ہوتا ہے جو دوسروں کے رحم کو جذب کرتا ہے۔اسی طرح وہ دعا جو اللہ تعالیٰ سے کی جاوے۔اس کی آواز ، اس کا لب ولہجہ بھی اور ہی ہوتا ہے۔اس میں وہ رقت اور درد ہوتا ہے جو الوہیت کے چشمہ رحم کو جوش میں لاتا ہے۔اس دعا کے وقت آواز ایسی ہو کہ سارے اعضاء اس سے متاثر ہو جاویں اور زبان میں خشوع خضوع ہو، دل میں درد اور رقت ہو ، اعضاء میں انکسار اور رجوع الی اللہ ہو۔اور پھر سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم پر کامل ایمان اور پوری امید ہو۔اُس کی قدرتوں پر ایمان ہو۔ایسی حالت میں جب آستانہ الوہیت پر گرے۔نامراد واپس نہ ہو گا۔“ (المفوظات جلد ۴ صفحه ۱۵۰،۱۴۹)