صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 253
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۵۳ ۸۱ - کتاب الرقاق نجات تو روح کی ہے نہ کہ جسم کی جسم کو جلانے سے روح صاف نہیں ہوتی اور نہ حقیقی نجات ملتی ہے اصل نجات تو خدا کی نافرمانی سے بیچنے اور گناہ کی تمام آلائشوں اور گندگیوں کو جلانے سے ملتی ہے جو اس زندگی میں ہی حاصل کرنی ضروری ہے۔جیسا کہ فرمایا وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتن (الرحمن: ۴۷) اور جو شخص اپنے رب کی شان سے ڈرتا ہے اس کے لیے دو جنتیں مقرر ہیں ( دنیوی بھی اور اخروی بھی۔حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں: یہ جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ (البقرة: ۲۸۵) تو یہ اس کی این تصویر ہے۔مرتے ہوئے کا خوف بھی اس کی بخشش کا سامان کر گیا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مالکیت کے ضمن میں فرماتا ہے وَكَانَ اللهُ غَفُورًا ) (النساء: ۱۰۱) اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا بار بار رحم کرنے والا ہے۔پس اس شخص کو اللہ کا خوف تھا جس نے اس کو اپنی لاش کے ساتھ یہ سلوک کروانے پر مجبور کیا۔لیکن مالک نے رحم فرماتے ہوئے اس کی بخشش کے سامان کر دیئے۔لیکن ایک مومن بندے کو یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک ایک مومن کو برائیوں میں نہیں بڑھا تا کہ اللہ تعالیٰ نے بخش دینا ہے جو مرضی کئے جاؤ۔بلکہ یہ سلوک اسے اتنی مہربانی اور رحم کرنے والے خدا کی طرف جھکانے والا ہونا چاہئے۔یہ سلوک اپنے گناہوں کی طرف نظر کر کے استغفار کی طرف توجہ دلاتا ہے، اس کی عبادت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔کیونکہ باوجود اللہ تعالیٰ کے اتنا رحم کرنے کے اللہ فرماتا ہے کہ بعض گناہ میں نہیں بخشوں گا اور فرمایا کہ شرک کا گناہ میں معاف نہیں کروں گا۔(النساء : ۴۹) (خطبات مسرور خطبہ جمعہ فرموده ۱۶ اپریل ۲۰۰۷ء، جلد ۵ صفحه ۱۳۹، ۱۴۰) باب ٢٦ : الِانْتِهَاءُ عَنِ الْمَعَاصِي گناہوں سے رک جانا ٦٤٨٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ :۶۴۸۲ محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْن ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے برید بن عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عبد الله بن ابی بردہ سے، انہوں نے ابوبردہ سے، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ سے روایت کی۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُ مَا انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: