صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 252
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۵۲ ۸۱ - كتاب الرقاق فَقَالَ اللهُ كُنْ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ ثُمَّ فَاسْحَقُونِي کہا یا فَاسْهَكُونِي کہا۔ پھر جب تیز قَالَ أَيْ عَبْدِي مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا آندھی ہو تو مجھے اس میں بکھیر دینا۔ اس پر اس فَعَلْتَ قَالَ مَخَافَتُكَ أَوْ فَرَقَ مِنْكَ۔ نے قسم دے کر ان سے پختہ عہد و پیمان لئے اور فَمَا تَلَافَاهُ أَنْ رَحِمَهُ اللهُ فَحَدَّثْتُ أَبَا انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ نے فرمایا: ہو جاتو عُثْمَانَ فَقَالَ سَمِعْتُ سَلْمَانَ غَيْرَ کیا دیکھا کہ وہ شخص کھڑا ہے ۔ پھر فرمایا: اے ؟ أَنَّهُ زَادَ فَأَذْرُونِي فِي الْبَحْرِ أَوْ كَمَا بندے جو تم نے کیا، اس پر تمہیں کس نے آمادہ کیا۔ اس نے کہا: تیرے خوف نے یا (کہا) تیرے حَدَّثَ۔ وَقَالَ مُعَادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خوف کی گھبراہٹ نے۔ پھر اللہ نے اس کے اے میرے فَتَادَةَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ عَنِ النَّبِي گناہوں کی یوں تلافی کی کہ اس پر رحم کیا۔ (معتمر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ کے باپ سلیمان نے کہا) میں نے ابو عثمان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا۔ میں نے بھی أطرافه: ٣٤٧٨، ٧٥٠٨- سلمان سے سنا مگر انہوں نے اتنا زائد بیان کیا کہ پھر مجھے سمندر میں بکھیر دینا یا کچھ ایسا ہی بتایا۔ اور معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے روایت と کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے حضرت ابو سعید سے سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدید کرتے تھے۔ روایت تشریح الخوف من اللہ اللہ کی ناراضگی سے ڈرنا۔ زیر باب روایات میں سابقہ امتوں کے ایک آدمی کے اس خوف کے واقعہ کو بیان کیا گیا ہے جو اپنے گناہوں کے ساتھ خدا کا سامنا کرنے سے ڈرا اور اس کا یہ ڈرنا اُسے نجات دلا گیا۔ دراصل انسان کا یہ خوف ہی اسے نجات دلاتا ہے کہ میں گندگی کی حالت میں خدائے قدوس کا کیسے سامنا کروں گا۔ یہ احساس اور معرفت اگر زندگی میں حاصل ہو جائے تو انسان اپنے آپ کو گناہ کے گند سے آلودہ نہ کرے۔ اسلام جس نجات کی طرف بلاتا ہے اُس کا آغاز اس دنیا میں ہی ہو جاتا ہے اور آخرت میں وہ دوہری جنت کی صورت میں اسے نصیب ہو گی۔ بعض قوموں میں مردے جلانے کی جو رسم ہے وہ کسی متعدی بیماری کے زمانہ کی پیداوار بھی ہو سکتی ہے اور نجات کے اس تصور کی بھی جو اس واقعہ میں بیان کیا گیا ہے۔ مگر اصل