صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 250 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 250

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۵۰ ۸۱ - كتاب الرقاق اس کے عالم بندوں کے دل میں ہوتی ہے۔ورنہ خوف تو عام لوگوں کے دل میں بھی ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے (المفردات فی غریب القرآن خشی) پس يَخْشَونَ رَبِّهُمْ کے معنے ہوں گے کہ وہ اپنے رب سے ایسی خشیت کرتے ہیں جس میں اس کی تعظیم اور بزرگی پائی جاتی ہے اور وہ علم پر مبنی ہوتی ہے۔“ ( تفسیر کبیر زیر آیت وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللهُ بة۔۔جلد ۳ صفحه (۴۰۸) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: الله جل شانہ سے وہ لوگ ڈرتے ہیں جو اس کی عظمت اور قدرت اور احسان اور حسن اور جمال پر علم کامل رکھتے ہیں خشیت اور اسلام در حقیقت اپنے مفہوم کے رُو سے ایک ہی چیز ہے کیونکہ کمال خشیت کا مفہوم اسلام کے مفہوم کو مستلزم ہے۔پس اس آیت کریمہ کے معنوں کا مال اور ماحصل یہی ہوا کہ اسلام کے حصول کا وسیلہ کاملہ یہی علم عظمت ذات وصفات باری ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۸۵) بَابِ ٢٥ : الْخَوْفُ مِنَ اللَّهِ اللہ کی ناراضگی) سے ڈرنا ٦٤٨٠: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي :۶۴۸۰: عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ جرير بن عبد الحمید) نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے عَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى منصور (بن معتمر) سے، ہمنصور نے ربعی سے، ربعی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ نے حضرت حذیفہ بن یمان) سے، حضرت كَانَ قَبْلَكُمْ يُسِيءُ الظَّنَّ بِعَمَلِهِ حذیفہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔فَقَالَ لِأَهْلِهِ إِذَا أَنَا مُتُّ فَخُذُونِي آپ نے فرمایا: تم میں سے جو پہلے لوگ تھے ان فَذَرُونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمٍ صَائِف میں ایک شخص تھا جو اپنے عمل کو بُر آسمجھا کرتا تھا۔فَفَعَلُوا بِهِ فَجَمَعَهُ اللهُ ثُمَّ قَالَ مَا اس نے اپنے گھر والوں کو کہا۔جب میں مر جاؤں حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ قَالَ مَا تو مجھے لے کر کسی آندھی کے دن سمندر میں بکھیر