صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 249 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 249

صحیح البخاری جلد ۱۵ رَضِيَ ۲۴۹ ۱ - کتاب الرقاق اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ حفص بن عاصم سے، حفص نے حضرت ابوہریرہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ رضى اللہ عنہ سے ،حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ فِي ظِلّهِ رَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ فَفَاضَتْ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: سات آدمی ہیں جنہیں اللہ اپنے سایہ میں رکھے گا۔ایک عَيْنَاهُ۔أطرافه: ٦٦٠، ١٤٢٣، ٦٨٠٦ وہ شخص جس نے اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔تشريح : الْبُكَاءُ مِنْ خَشْيَةِ اللہ عَزَّ وَجَلَّ: اللہ عزوجل کی خشیت کی وجہ سے رونا۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: خشیت اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے پید اہو اور صرف کسی کی اپنی کمزوری کی وجہ سے یہ ڈر پیدا نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی خشیت یقیناً ایسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اظہار بھی ہے اور ایک کمزور بندے کی اپنی کم مائیگی کا اظہار بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کی عظمت کیا ہے؟ یہ یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ سب طاقتوں کا مالک ہے اور اُس نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ہر چیز اس کی پیدا کر دہ ہے اور اُس کے ذریعہ سے قائم ہے۔اُسی کی ملکیت ہے اور اُس کے چاہنے سے ہی ملتی ہے۔پس جب ایسے قادر اور مقتدر خدا پر ایمان ہو اور اُس کی خشیت دل میں پیدا ہو تو پھر ہی انسان اس کی قدرتوں سے حقیقی فیض پاسکتا ہے۔" (خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۳ اگست ۲۰۱۲، جلد ۱۰ صفحه ۴۶۶ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "الخشية کے معنے ہیں خَوْفٌ يَشُوبُهُ تَعْظِيمُ، وَأَكُثَرُ مَا يَكُونُ ذَلِكَ عَنْ عِلْمٍ يما يخشى منه، ولذلك خص العلماء بها فى قوله إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (فاطر:۲۹) یعنی خشیت اس خوف کو کہتے ہیں جس میں اس شخص کی جس سے خشیت کی جائے تعظیم بھی ملی ہوئی ہو اور اس کی بزرگی کا احساس بھی ہو۔اور لفظ خشیت کا اکثر استعمال اس جگہ ہوتا ہے جہاں خوف کی وجہ کا بھی علم ہو۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی خشیت صرف