صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 248
صحیح البخاری جلد ۱۵ ریح: چلے ۲۴۸ ۱ - کتاب الرقاق حفظ اللسان: زبان کو محفوظ رکھنا۔زیر باب سورۃ ق کی آیت میں رقیب عید کے الفاظ ہیں۔اس سے مراد فرشتے ہیں جو ہر بات کا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يحل أَجَلٍ كِتَابُ يَمْحُوا اللهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الكتب (الرعد: ۳۹، ۴۰) ہر ایک پروگرام کے لیے ایک میعاد مقرر ہے۔جس چیز کو اللہ چاہتا ہے مٹاتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) قائم کرتا ہے اُسی کے پاس (تمام) احکام کی اصل ( اور جڑ) ہے۔انسان کے اندر یہ احساس اور فکر پیدا ہو جائے اور اس پر اس کا یقین ایمان کی حد تک قائم ہو جائے کہ اس کی ہر بات ریکارڈ ہو رہی ہے اور ام الکتاب میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہے تو وہ جہاں انتہائی محتاط گفتگو اپنا شعار بنائے گا وہاں وہ ہر قسم کی لایعنی اور لغو باتوں کے محو کیے جانے کے لیے يَمْحُوا اللهُ مَا يَشَاءُ کو حرز جان بناتے ہوئے ہمیشہ استغفار اور عفو سے اپنی زبان کو تر رکھے گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: بعض گناہ ایسے باریک ہوتے ہیں کہ انسان اُن میں مبتلا ہوتا ہے اور سمجھتا ہی نہیں۔جو ان سے بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اسے پتہ نہیں لگتا کہ گناہ کرتا ہے مثلا گلہ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ایسے لوگ اس کو بالکل ایک معمولی اور چھوٹی سی بات سمجھتے ہیں۔حالانکہ قرآن شریف نے اس کو بہت ہی بڑا قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا ہے آیحِبُّ أحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا (الحجرات: ۱۳) خدا تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے کہ انسان ایسا کلمہ زبان پر لاوے جس سے اس کے بھائی کی تحقیر ہو اور ایسی کارروائی کرے جس سے اس کو حرج پہنچے۔ایک بھائی کی نسبت ایسا بیان کرنا جس سے اس کا جاہل اور نادان ہونا ثابت ہو یا اس کی عادت کے متعلق خفیہ طور پر بے غیرتی یا دشمنی پیدا ہو یہ سب برے کام ہیں۔( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۶۵۳، ۶۵۴ ) باب ٢٤ : الْبُكَاءُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ اللہ عزوجل کی خشیت کی وجہ سے رونا ٦٤٧٩: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۶۴۷۹: محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ یحییٰ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ (قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبید اللہ حَدَّثَنِي حُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ (عمری) سے روایت کی۔انہوں نے کہا خبیب حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بن عبد الرحمن نے مجھ سے بیان کیا۔خبیب نے