صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 246
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۴۶ ۸۱ - کتاب الرقاق ٦٤٧٥: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۲۴۷۵: عبد العزیز بن عبد اللہ نے مجھ سے بیان عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ سے، أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی۔انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِر فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ وَمَنْ كَانَ رکھتا ہو تو وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اپنے يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ پڑوسی کو نہ ستائے اور جو اللہ اور یوم آخرت پر جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان سے عزت کے ساتھ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ۔پیش آئے۔! أطرافه ٥١٨٥، ٦٠١٨، ٦١٣٦، ٦١٣٨۔٦٤٧٦: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۶۴۷۶: ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے لَيْتْ حَدَّثَنَا سَعِيدُ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي ہمیں بتایا۔سعید مقبری نے ہم سے بیان کیا۔سعید شُرَيْحِ الْخَزَاعِيِّ قَالَ سَمِعَ أُذُنَايَ نے حضرت ابو شریح خزاعی سے روایت کی۔وَوَعَاهُ قَلْبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اُنہوں نے کہا: میرے دونوں کانوں نے سنا اور وَسَلَّمَ يَقُولُ الضَّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ میرے دل نے اچھی طرح سمجھ کر یا د رکھا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمارہے تھے مہمان نوازی تین دن تک ہے یعنی جو مہمان نوازی کا دستور ہے ہے۔پوچھا گیا: مہمان نوازی کا کیا دستور ہے؟ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ فرمایا: ایک دن اور رات۔آپ نے فرمایا: اور جو كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو چاہیے کہ وہ جَائِزَتُهُ قِيلَ وَمَا جَائِزَتُهُ قَالَ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ قَالَ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ۔أطرافه: ٦٠١٩، ٦١٣٥۔مہمان سے عزت سے پیش آئے اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے چاہیئے کہ وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔