صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 245 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 245

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۴۵ ۸۱ - كتاب الرقاق وہ رحمت عالم آتا ہے، تیرا حامی ہو جاتا ہے بھیج تو بھی انساں کہلاتی ہے، سب حق تیرے دلواتا ہے ان ظلموں سے چھڑواتا ہے درود اس محسن پر تو دن میں سو سو بار پاک محمد مصطفى نبیوں کا سردار صل على محمد ( دُرِّ عَدَن، صفحه ۲۵،۲۴) بَاب ۲۳ : حِفْظُ اللِّسَانِ زبان کو محفوظ رکھنا وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ) جو فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ وَقَوْلُهُ تَعَالَی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ بھلی بات مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلِ الأَلَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيد کہے یا خاموش رہے اور ا خاموش رہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ جو (ق: ۱۹) بات بھی وہ منہ سے نکالتا ہے تو ضرور اس کے پاس ہی ایک نگہبان تیار رہتا ہے ٦٤٧٤ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي ۶۴۷۴ : محمد بن ابی بکر مقدمی نے ہم سے بیان کیا بَكْرِ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيّ که عمر بن علی نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابوحازم سَمِعَ أَبَا حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ سے سنا، ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد (ساعدی) عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے، حضرت سہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جو شخص میرے لیے ان (دو) کا ضامن ہوتا ہے جو اس کے دو وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ۔ طرفه: ٦٨٠٧- جبڑوں کے درمیان اور جو اس کی دو ٹانگوں کے درمیان ہے ۔ میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوتا ہوں