صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 244 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 244

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۴۴ ۸۱ - کتاب الرقاق تھے۔اسلام نے نہ صرف معاشرے سے اس ظلم کو مٹایا اور بچیوں کا تحفظ فرمایا بلکہ یہ پیشگوئی کی کہ آئندہ ایسے قانون بن جائیں گے جو بچوں کو تحفظ دیں گے۔فرماتا ہے: وَاِذَا المَودَةُ سُبِلتُ ، پای ذنب قتلت ( التكوير : ۹، ۱۰) اور جب زندہ گاڑی جانے والی (لڑکی) کے بارہ میں سوال کیا جائے گا( کہ آخر کس گناہ کے بدلہ میں اس کو قتل کیا گیا تھا۔ان آیات کے حاشیہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان آیات میں آئندہ زمانہ کی متمدن حکومتوں کا ذکر ہے جو اپنے بچوں پر بھی والدین کے اقتدار کا انکار کریں گی۔اپنے وسیع تر معنوں میں یہ آیت اس شان سے پوری ہوئی ہے کہ قتل تو در کنار اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ماں باپ اپنے بچوں پر کسی قسم کی زیادتی کرتے ہیں تو حکومتیں ان کے بچوں کو اپنی تحویل میں لے لیتی ہیں۔( قرآن کریم اردو ترجمہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ، سورۃ التکویر، حاشیه آیت نمبر ۱۰۰۹) عرب میں ہونے والے ان مظالم سے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچیوں اور عورتوں کو کس طرح بچایا اور انہیں تحفظ دیا، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بڑی صاحبزادی حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ایک دردناک نظم میں بیان فرماتی ہیں: رکھ پیش نظر وہ وقت بہن، جب زندہ گاڑی جاتی تھی گھر کی دیواریں روتی تھیں، جب دنیا میں تو آتی تھی خونِ جگر جب باپ کی جھوٹی غیرت کا، خوں جوش میں آنے لگتا تھا جس طرح جنا ہے سانپ کوئی، یوں ماں تیری گھبراتی تھی پالنے والے تیرا خون بہاتے تھے جو نفرت تیری ذات سے تھی فطرت پر غالب آتی تھی کیا تیری قدر و قیمت تھی! کچھ سوچ تری کیا عزت تھی! تھا موت سے بد تر وہ جینا قسمت سے اگر بچ جاتی تھی عورت ہونا تھی سخت خطا، تھے تجھ پر سارے جبر روا یہ جرم نہ بخشا جاتا تھا، تا مرگ سزائیں پاتی تھی گویا تو کنکر پتھر تھی، احساس نہ تھا جذبات نہ تھے تو ہین وہ اپنی یاد تو کرا، ترکہ میں بانٹی جاتی تھی