صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 243 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 243

صحیح البخاری جلد ۱۵ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ ۲۴۳ - كتاب الرقاق حدیث حضرت مغیرہ سے۔ حضرت مغیرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ أطرافه: ٨٤٤، ١٤٧٧، ۲۴۰۸، ۵۹۷۵ ، ٦٣۳۰، ٦٦١٥ ، ٧٢٩٢۔ تشريح : مَا يُكْرَهُ مِنْ قِيلَ وَقَالَ: قیل و قال : ں جو نا پسندیدہ ہے۔ زیر با جونا ۔ زیر باب روایت میں چھ باتوں سے منع کرنے کا ذکر ہے (۱) بے مقصد اور فضول باتیں کرنا۔ (۲) زیادہ سوال کرنا۔ (۳) مال ضائع کرنا۔ (۴) بخل و حرص۔ (۵) ماؤں کی نافرمانی کرنا۔ (۶) بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا۔ قیل و قال یعنی کہا گیا اور اس نے کہا۔ اس کے ایک معنی یہ ہیں ایسی بات کرنا جس کے متعلق یہ علم نہ ہو یا یہ نہ بتایا جائے کہ کہنے والا کون ہے یعنی صیغہ مجہول میں بات کرنا۔ یہ انداز کچی، بے سند اور نا پختہ باتوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اس لیے یہ طریق مناسب نہیں ہے جو بات کرو وہ پکی پختہ اور اپنے ساتھ سند و ثبوت رکھتی ہو۔ معاشرہ میں اکثر فتنے اسی قسم کی سنی سنائی نا پختہ باتوں سے پیدا ہوتے ہیں جن کی بنیاد محض قیاس اور شک پر ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے اسے گناہ قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْم ( الحجرات : ۱۳) اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچتے رہا کرو، کیونکہ بعض گمان گناہ بن جاتے ہیں۔ دوسرے معنے ہیں بے مقصد اور لایعنی باتیں کرنا جن کا کوئی بھی مفید نتیجہ نہ نکلتا ہو۔ وَكَانَ يَنْهَى عَنْ كَثُرَةِ السُّؤَالِ: آپ بہت سوال کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ سچ ہے کہ ذرا ذراسی بات پر سوال کرنا مناسب نہیں اس سے منع فرمایا گیا ہے لا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَاء ( المائدة : ۱۰۲) اور ایسا ہی اس سے بھی منع کیا گیا ہے کہ آدمی جاسوسی کر کے دوسروں کی برائیاں نکالتا رہے یہ دونو طریق برے ہیں لیکن اگر کوئی امر اہم دل میں کھٹکے تو اسے ضرور پیش کر کے پوچھ لینا چاہئے یہ ایسی ہی بات تو کے ہے کہ اگر کوئی شخص خراب غذا کھالے اور وہ پیٹ میں جا کر خرابی پیدا کرے اور اس سے جی متلانے لگے تو چاہئے کہ فوراً قے کر کے اس کو نکال دیا جائے لیکن اگر وہ اس کو نکالتا نہیں تو پھر وہ آلات ہضم میں فتور پیدا کر کے صحت کو بگاڑ دے گی جیسے ایسی غذا کو فوراً نکالنا چاہئے اسی طرح جو بات دل میں کھٹکے اسے جلد باہر نکال دو۔“ ( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۳۸۵) وَأَدِ الْبَنَاتِ: بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ عرب کے اُس معاشرہ میں بعض قبائل میں یہ انسانیت سوز نہایت بہیمانہ رسم تھی کہ بعض لوگ بچی کی پیدائش کو اپنے لیے آر سمجھتے تھے اور اُسے زندہ درگور کر دیتے