صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 242
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۴۲ ۸۱ - کتاب الرقاق باب ۲۲ : مَا يُكْرَهُ مِنْ قِيلَ وَقَالَ قیل و قال جو نا پسندیدہ ہے ٦٤٧٣: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ۶٣٧٣ : علی بن مسلم نے ہم سے بیان کیا کہ بشیم حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ نے ہمیں بتایا کہ ایک سے زائد آدمیوں نے ہم مِنْهُمْ مُغِيرَةً وَفُلَانٌ وَرَجُلٌ ثَالِث سے بیان کی۔ان میں سے مغیرہ اور ایک فلاں شخص اور ایک تیسرا شخص بھی ہے۔انہوں نے شعی أَيْضًا عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ سے شعبی نے وڑاد سے جو حضرت مغیرہ بن شعبہ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ کے منشی تھے روایت کی کہ حضرت معاویہؓ نے إِلَى الْمُغِيرَةِ أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِحَدِيثِ حضرت مغیرہ کو لکھا مجھے ایسی حدیث لکھ کر بھیجیں سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ الْمُغِيرَةُ وزاد کہتے تھے: تو حضرت مغیرہ نے انکو لکھا میں نے إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نماز سے الصَّلَاةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا فارغ ہونے پر یہ کہا کرتے تھے: اللہ کے سوا کوئی شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ معبود نہیں وہ واحد ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں اسی عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔قَالَ وَكَانَ کی بادشاہت ہے۔اور اسی کی تمام تعریفیں ہیں۔اور وہ ہر بات پر بڑا ہی قادر ہے۔کہتے تھے (اور یہ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ وَكَفْرَةِ السُّؤَالِ بھی لکھا کہ آپ بے فائدہ باتوں اور بہت سوال وَإِضَاعَةِ الْمَالِ وَمَنْعِ وَهَاتِ وَعُقُوقِ کرنے اور مال کو ضائع کرنے اور بخل و حرص اور الْأُمَّهَاتِ وَوَأَدِ الْبَنَاتِ۔وَعَنْ هُشَيْمٍ ماؤں کی نافرمانی کرنے اور بیٹیوں کو زندہ درگور أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے اور (اسی سند سے ) سَمِعْتُ وَرَّادًا يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ ہشیم سے مروی ہے کہ ہمیں عبد الملک بن عمیر نے الْمُغِيرَةِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله بتایا۔انہوں نے کہا۔میں نے وراد سے سنا وہ یہی عَنِ