صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 241 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 241

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۴۱ ۸۱ - كتاب الرقاق بَاب ۲۱ : وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: ٤) اور جو اللہ پر توکل کرے گا تو وہ اس کے لیے کافی ہو گا وَقَالَ الرَّبِيعُ بْنُ خُشَيْمٍ مِنْ كُلِّ مَا اور ربیع بن خثیم نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ ہر اس تنگی سے جس سے نکلنا لوگوں کے لیے دشوار ہوگا۔ ضَاقَ عَلَى النَّاسِ۔ ٦٤٧٢: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا ۶۴۷۲: اسحاق (بن منصور ) نے مجھ سے بیان کیا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ که روح بن عبادہ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے حُسَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ كُنْتُ بیان کیا کہ میں نے حسین بن عبد الرحمن سے سناوہ قَاعِدًا عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ عَنِ کہتے تھے۔ میں سعید بن جبیر کے پاس بیٹھا ہوا ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ تھا۔ اُنہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت میں سے ستر ہزار بغیر حساب أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ هُمْ کے جنت میں داخل ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہیں الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ۔ أطرافه: ٣٤١٠ ٥٧٠٥ ٥٧٥٢، ٦٥٤١- جو نہ منتر پڑھواتے ہیں اور نہ بُرا شگون لیتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ تشريح۔ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ: اور جواللہ پر توکل کرے گا تو وہ اس کے لیے کافی ہو گا۔ تو کل کیا ہے۔ وأصل التَّوَكُل من الوكول، يُقال : وَكَّلَ أَمْرَهُ إِلَى فُلَانٍ أَى الْتَجَأَ إِلَيْهِ وَاعْتَمَدَ عَلَيْهِ (عمدۃ القاری جزء ۲۳ صفحه ۶۸) توکل وکول سے ہے کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنا معاملہ فلاں کے سپرد کر دیا یعنی اس کی پناہ لی اور اس پر اعتماد کیا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: بھروسہ اسباب پر ہرگز نہ چاہیے بلکہ یوں چاہیے کہ اسباب کو مہیا کر کے پھر بھروسہ خدا تعالیٰ پر کرنا چاہیئے اور اگر وہ چاہے تو ان اسباب کو مفید بنادے اور اسی سے پھر بھی دُعا کرنی چاہیے کیونکہ اسباب پر نتائج مرتب کرنا تو اسی کا کام ہے اور یہی تو کل ہے۔“ (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۱۸۸)