صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 240
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۴۰ ۱ - کتاب الرقاق کرتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی حالت میں جب کہ آپ بوڑھے ہو چکے تھے اور ساٹھ سال سے زیادہ عمر تھی رات کو نماز کے لئے اُٹھتے تو اتنی اتنی دیر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ مجھے یہ دیکھ کر رحم آتا۔آخر ایک دن تنگ آکر میں نے کہا یار سول اللہ ! آپ اپنی جان کو اتنا دکھ میں کیوں ڈالتے ہیں۔آپ نماز میں کھڑے ہوتے اور عبادت کرتے ہیں تو اتنی اتنی دیر کھڑے رہتے ہیں کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے ہیں اور آپ پر ضعف طاری ہو جاتا ہے۔کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہوں کو معاف نہیں کر دیا؟ اور کیا خدا تعالیٰ نے آپ کو الہام کے ذریعہ نہیں کہہ دیا کہ میں تجھ پر راضی ہوں؟ حضرت عائشہ فرماتی ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جواب میں کہا، عائشہ ! ٹھیک ہے خدا نے مجھ پر بڑے بڑے فضل نازل کئے ہیں۔یہ بھی ٹھیک ہے کہ خدا نے میرے تمام قسم کے کاموں میں برکتیں رکھی ہیں۔مگر اے عائشہ ! جب خدا نے مجھ پر اتنا بڑا فضل نازل کیا ہے تو کیا میرا فرض نہیں کہ میں شکر گزار بندہ بنوں۔عربی کے الفاظ یہ ہیں۔آلآ آلُونَ عَبْدًا شَكُوراً اے عائشہ ! کیا خدا کا ہی کام ہے کہ وہ محسن بنے بندے کا کام نہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے؟ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے انسان بھی باوجود ان تمام قربانیوں کے جو آپ نے کیں، باوجود جذبات محبت کی اس فراوانی کے جو آپ خد اتعالیٰ کے متعلق رکھتے تھے پھر بھی اس بات کے محتاج تھے کہ راتوں کو اُٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور اتنی اتنی دیر کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے ، دن کو عبادت کرتے اور اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ سے ملنے کے قابل بناتے تو اور کون انسان ہے جو اپنے آپ کو ان ذمہ داریوں سے مستغنی قرار دے سکے۔“ (قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں، انوار العلوم جلد ۱۹ صفحہ ۴۳۹، ۴۴۰)