صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 239 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 239

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۳۹ - كتاب الرقاق ٦٤٧١: حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ۶۴۷۱: خلاد بن يحي نے ہم سے بیان کیا کہ مسعر حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ (بن کدام) نے ہمیں بتایا۔ زیاد بن علاقہ نے ہم قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا میں نے حضرت مغیرہ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بن شعبہ سے سنا وہ کہتے تھے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ - أَوْ تَنْتَفِخَ - اتنی دیر تک نماز پڑھتے کہ آپ کے پاؤں سوج قَدَمَاهُ فَيُقَالُ لَهُ فَيَقُولُ أَفَلَا أَكُونُ جاتے یا (کہا:) پھول جاتے۔ تو آپ سے کہا جاتا۔ آپ فرماتے: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ عَبْدًا شَكُورًا۔ أطرافه : ١١٣٠، ٤٨٣٦- تشریح : الصَّبْرُ عَنْ مَحَارِمِ اللہ اللہ کی حرام کر دہ باتوں سے اپنے آپ کو روکے رکھنا ۔ والصبر حبس النفس وتارة يستعمل بِكَلِمَة : عَن كَمَا فِي المعاصي، يُقال صبر عن الزنا، وتارة بكلمة : على، كَمَا فِي الطَّاعات يُقال: صبر على الصلاة، ونحو ذلك۔ (عمدة القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۶۷) صبر نفس کو روکنے کا نام ہے۔ جب اسے عن کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ گناہوں سے روکنے کیلئے استعمال ہوتا ہے جیسے صبر عن الزنا، کبھی یہ کلمہ علی کے ساتھ اطاعت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جیسے صبر علی الصلاۃ ۔ امام بخاری نے زیر باب آیت سے صبر کے اس مضمون کو واضح کیا ہے کہ بدیوں سے اپنے آپ کو روکے رکھنے والوں کے لیے بڑے بڑے اجر و ثواب مقدر ہیں۔ اور زیر باب دوروایات سے صبر کی دو مختلف زاویوں سے تشریح کی ہے۔ روایت ۶۴۷۰ میں حرص اور لالچ سے نفس کو روکنا اور قناعت اختیار کرنا بیان کیا گیا ہے۔ روایت ۶۴۷۱ میں صبر کا ایک اور رنگ دکھایا کہ حق بندگی اختیار کرنا اور اس میں اس قدر مجاہدہ کرنا اور اپنے نفس کو خدا کے حضور ڈال دینا کہ جسمانی تکلیف اور اور مشقت سے بے نیاز محسن کے حسن و احسان میں ڈوبتے چلے جانا اور وارستگی اور ڈوبتے چلے جانا اور وارستگی اور محویت کی اس حالت میں شکر و سپاس سے جسم و روح کے ذرہ ذرہ کا آستانہ الوہیت پر پانی کی طرح بہتے چلے جانا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اور کون انسان خدا تعالیٰ کا مقرب ہو سکتا ہے اور آپ کے سوا اور کون ہے جس نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا ہو کہ وہ خدا کے لئے اپنی ہر چیز اور اپنے ہر جذبہ کو قربان کرنے کیلئے تیار ہے۔ مگر باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس دن کے لئے اتنی تیاری