صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 239
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۳۹ ۸۱ - کتاب الرقاق ٦٤٧١: حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى :۶۴۷۱: خلاد بن بیچی نے ہم سے بیان کیا کہ مسعر حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ بن کدام) نے ہمیں بتایا۔زیاد بن علاقہ نے ہم قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا میں نے حضرت مغیرہ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بن شعبہ سے سناوہ کہتے تھے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ - أَوْ تَنْتَفِخَ - اتنی دیر تک نماز پڑھتے کہ آپ کے پاؤں سوج قَدَمَاهُ فَيُقَالُ لَهُ فَيَقُولُ أَفَلَا تَكُونُ جاتے یا کہا: ) پھول جاتے۔تو آپ سے کہا جاتا۔آپ فرماتے: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔عَبْدًا شَكُورًا۔أطرافه: ١١٣٠، ٤٨٣٦- تشريح : الصَّبْرُ عَن مَحَارِمِ الله : اللہ کی حرام کردہ باتوں سے اپنے آپ کو روکے رکھنا۔وَالصّغر حبس النفس وتارة يستعمل بِكَلِمَة عَن كَمَا في المعاصى يُقَال صبر عن الزكا، وتارة بكلمة : على كَمَا في الطاعات يُقال: صبر على الصَّلاة، ونحو ذلك (عمدة القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۶۷) صبر نفس کو روکنے کا نام ہے۔جب اسے عن کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ گناہوں سے روکنے کیلئے استعمال ہوتا ہے جیسے صبر عن الزنا، کبھی یہ کلمہ علی کے ساتھ اطاعت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جیسے صبر على الصلاة۔امام بخاری نے زیر باب آیت سے صبر کے اس مضمون کو واضح کیا ہے کہ بدیوں سے اپنے آپ کو روکے رکھنے والوں کے لیے بڑے بڑے اجر و ثواب مقدر ہیں۔اور زیر باب دو روایات سے صبر کی دو مختلف زاویوں سے تشریح کی ہے۔روایت ۶۴۷۰ میں حرص اور لالچ سے نفس کو روکنا اور قناعت اختیار کرنا بیان کیا گیا ہے۔روایت ۶۴۷۱ میں صبر کا ایک اور رنگ دکھایا کہ حق بندگی اختیار کرنا اور اس میں اس قدر مجاہدہ کرنا اور اپنے نفس کو خدا کے حضور ڈال دینا کہ جسمانی تکلیف اور مشقت سے بے نیاز محسن کے حسن و احسان میں ڈوبتے چلے جانا اور وارستگی اور محویت کی اس حالت میں شکر و سپاس سے جسم و روح کے ذرہ ذرہ کا آستانہ الوہیت پر پانی کی طرح بہتے چلے جانا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اور کون انسان خد اتعالیٰ کا مقرب ہو سکتا ہے اور آپ کے سوا اور کون ہے جس نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا ہو کہ وہ خدا کے لئے اپنی ہر چیز اور اپنے ہر جذبہ کو قربان کرنے کیلئے تیار ہے۔مگر باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس دن کے لئے اتنی تیاری