صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 237 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 237

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۳۷ ۱ - کتاب الرقاق الْجَنَّةِ وَلَوْ يَعْلَمُ الْمُسْلِمُ بِكُلِّ کو جانتا جو اللہ کے پاس ہے تو آگ سے نڈر نہ الَّذِي عِنْدَ اللهِ مِنَ الْعَذَابِ لَمْ يَأْمَنْ ہوتا۔مِنَ النَّارِ۔طرفه: ٦٠٠٠ - الرِّجَاءُ مَعَ الْخَوفِ خوف کے ساتھ اُمید رکھنا۔وَقَالَ سُفْيَانُ مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ أَشَدُّ عَلَى مِنْ لَسْتُمُ : سفیان بن عیینہ کو جس آیت سے فکر دامن گیر ہوئی اس آیت کے مخاطب اہل کتاب ہیں۔فرماتا ہے: قُل ياهل الكتب لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْرِيةَ وَالْإِنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ الَيْكُم مِّن رَّبِّكُم (المائدۃ: ۶۹) تو کہہ دے (کہ) اے اہل کتاب جب تک تم تو رات اور انجیل (کو) اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے تم پر اتارا گیا ہے اس کو ظاہر نہیں کرو گے (اس وقت تک ) تم کسی (اچھی) بات پر (قائم) نہیں۔سفیان بن عیینہ کا یہ خوف بجا ہے کہ اہل کتاب کو تورات اور انجیل اور اس تعلیم کو قائم نہ کرنے کا اتنا بڑا انتباہ ہے تو ہم جن کے لیے کامل شریعت اتری اس کے قیام اور اس پر عمل کی کتنی بڑی ذمہ داری ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انسان خواہ کیسی گندی حالت میں پہنچ جائے یہ نہ سمجھے کہ وہ نیک نہیں بن سکتا۔اس تعلیم کے ذریعہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مایوسی اور ناامیدی کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ہے۔آپ نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر فرمایا: إِنَّهُ لَا يَا نَسُ مِنْ روح الله إلا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ (يوسف: ۸۸) کہ خدا کی رحمت سے سوائے انکار کرنے والے کے اور کوئی مایوس نہیں ہوتا۔اب دیکھو اس اصل کے ماتحت کس حد تک امید کا دروازہ کھل جاتا ہے۔عام طور پر بدی اسی طرح پھیلتی ہے کہ جو شخص بدیوں میں مبتلا ہو چکا ہو۔وہ سمجھتا ہے کہ اتنی بدیاں کر لی ہیں تو اب میں کہاں نیک بن سکتا ہوں اور جب وہ یہ رائے قائم کر لیتا ہے تو وہ بدیوں میں بڑھتا جاتا ہے۔لیکن اگر کوئی یہ سمجھ لے کہ خواہ اس سے کتنی ہی بدیاں سر زد ہو چکی ہیں۔وہ نیک ہو سکتا ہے اور واپسی کا راستہ اس کے لئے بند نہیں ہے تو اس کے نیک بن جانے کا ہر وقت احتمال ہے۔“ ( دنیا کا محسن، انوار العلوم جلد ۱۰ صفحه ۲۸۴) 1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں "المؤمن" ہے۔(فتح الباری جزء ا ا حاشیہ صفحہ ۳۶۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔