صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 236
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۳۶ ۸۱ - كتاب الرقاق رضا کے خلاف ہوں بلکہ اپنی بشریت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ فرما رہے ہیں کہ مجھے بھی اپنے اعمال کی وجہ سے کچھ نہیں ملے گا بلکہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس سے فضل کی وجہ سے ملے گا۔“ خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۱۱، مارچ ۲۰۰۵، جلد ۳، صفحه ۱۵۵) بَابِ ۱۹: الرَّجَاءُ مَعَ الْخَوْفِ خوف کے ساتھ اُمید رکھنا وَقَالَ سُفْيَانُ مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ أَشَدُّ اور سفیان بن عیینہ) نے کہا: قرآن کی کوئی عَلَيَّ مِنْ لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا آیت بھی مجھ پر اس آیت سے بڑھ کر گراں نہیں الثورية والإِنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُم مِّن یعنی تم کسی بات پر بھی نہیں ہو، تا وقتیکہ تم تورات اور انجیل کے مطابق ٹھیک طور پر عمل نہ کرو اور ربَّكُم۔(المائدة: ٦٩) نیز اس کے مطابق جو تمہارے رب نے تمہاری طرف نازل کیا۔٦٤٦٩: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۶۴۶۹ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يعقوب بن عبد الرحمن نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ عمرو بن ابی عمرو سے، عمرو نے سعید بن ابی سعید أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُقبری سے ، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا۔میں نے رَضِيَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے: اللہ نے رحمت کو جس دن پیدا کیا۔اس کے سو حصے بنالئے اور پھر اپنے پاس ننانوے حصے رَحْمَةٍ فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رحمت کے روک لئے اور اپنی تمام مخلوقات میں رَحْمَةً وَأَرْسَلَ فِي خَلْقِهِ كُلِّهِمْ رَحْمَةً ایک حصہ رحمت کا بھیج دیا۔اگر کافر اس ساری وَاحِدَةً فَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ بِكُلِ الَّذِي رحمت کو جانتا جو اللہ کے پاس ہے تو جنت سے عِنْدَ اللهِ مِنَ الرَّحْمَةِ لَمْ يَيْتَ مِنَ مایوس نہ ہوتا اور اگر مؤمن اس سارے عذاب الله خَلَقَ الرَّحْمَةَ يَوْمَ خَلَقَهَا مِائَةَ